INNOCENCE OF MUSLIMS FILM AND FACTS (Urdu)

ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دے       بے ہوش جو پڑے ہيں شايد اُنہيں جگا دے
مسلمانوں پر (Innocence of Muslims) فلم  پر غم وغصہ کے ساتھ ساتھ يہ بھی ضروری ہيکہ وہ اپنا احتساب کریں اور خود سے سوال کریں کہ انکا اصل د شمن کون ہے، اور معاملات کو جذبات سے ہٹ کر حقائق کی روشنی ميں سمجھيں ـ سب کو معلوم ہے کہ یہود و نصاریٰ نے کبھی بھی محمدؐ کو اللہ کا رسول تسلیم نہیں کرا مگر يہ بات کم ہی مسلمان جانتے ہيں کہ اسلام کے خلاف وہ اپنے دعوں کی دلیلیں بھی خود آپکی اسلامی تاريخ اور احادیث سے فراہم کرتے ہیں ۔ اس فلم میں محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سيرت کے ايک پہلو پر کيچڑ اچھالتے ہوۓ توہین آمیز فلم بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ محمدؐ اللہ کے رسول نہیں بلکہ وہ اپنے شہوانی جذبات اور جنسی تسکین، خدا کی وحی کی آڑ ميں کرتے تھے ـ 
                                                                                                                                                                                                                        قرآن قرآن اور تاريخ کے مطالعے سے معلوم ہو گا  کہ حضرت عیسیٰؑ يا کسی اور پیغمبر کی زندگی میں جنسی خواہشات یا اس سے مغلوب ہونے کا ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں ہے جسکی طرف کوئی انگلی بھی اٹھا سکے۔ حضرت یوسفؐ کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا جس میں عزيزِ مصر کی بيوی کی شہوت کے سامنے حضرت یوسفؑ پاکباز رہے۔  اس ہی طرح  قرآن حضرت موسٰیؑ کی زندگی کا بھی ایک واقعہ بتاتا ہے جب حضرت شعیبؑ کی کنواری بیٹیوں کے درمیان آپؑ موجود ہيں يہ لڑکياں خود اپنے باپ سے موسٰیؑ کی تعریف کرتی ہيں اور حضرت شعیبؑ اپنی ایک بيٹی سے موسٰیؑ کا نکاح کردیتے ہيں۔ قرآن ميں ان دونوں نبيوںؑ کا کردار پاک صاف دکھايا گیا ۔    
            عیسائی اور یہودی، محمدؐ کی زندگی کا مطالعہ اور جائزہ جب قرآن اور مسلمانوں کی ہی مہيا اور ترتيب کردہ تاريخ اور احادیث کی روشنی میں کرتے ہیں تو انہیں ان کے کردار میں وہ خوبی نظر نہیں آتی جو دوسرے رسولوں یا نبیوں میں ملتی ہے ـ  اسکے علاوہ وہ آپکی ہی کتابوں ميں لکھے ہوۓ جھوٹے سچے قصے کہانيوں کی بنياد پر    مد ينۃ کے يہوديوں کے بے رحم قتلِ عام کيلۓ  آپؐ کو ذمہ دار ٹہراتے ہيں ـ     
مسلمانوں نے ایشیا، افریقہ اور اسپین پر قبضہ کرا تو اصولِ حکمرانی ظلم و زبردستی پر قائم رکھا ـ پھر قدرت کے 'قانونِ مکافاتِ عمل' کی پاداش ميں مسلمانوں کا عروج سولہویں صدی عیسوی کی ابتدا سے ختم ہونا شروع ہوگیا۔ سات سو سال اسپین پر حکومت کرنے کے بعد وہاں سے مسلمانوں کا ذلت کے ساتھ سفايا ہوگیا، سلطنتِ عثمانيہ  اور مغليہ سلطنتيں مٹ گئيں ۔
    کرتی ہے ملوکيت آثارِ جنوں پيدا ____ اللہ کے نشتر ہيں تيمور ہوں يا چنگيز
اب یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا دور شروع ہوچکا تھا، جسکے باعث وہاں سائنس، سیاسی اور معاشی نظام میں زبردست تبديلی و ترقی شروع ہوگئی جنکی بدولت یوروپين قوميں دنياء  میں ہر طرف اپنے پرچم لہرانے لگيں ـ
عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستور
مسلم آئيں ہوا تو ملے حور و قصور
 ليکن اس دوران مسلمان  نے ایسا کوئی کام نہیں کرا جس سے کہ انکو دنيا ميں عزت ملے، اب مسلمانوں کا دنيا کی کسی قوم کو خوف يا احترام نہ تھا ـ
يہی آئين ِفطرت ہے، يہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل ميں گامزن، محبوبِ فطرت ہے
 سترہویں صدی کے آواخر سے یورپی قوموں نے  محمدؐ اور قرآن کا نہ صرف ناقدانہ مطالعہ شروع کیا بلکہ نبیؐ کی سيرت تک لکھ کر اشاعت کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔  پہلا کام يہ کرا  کہ تورات اور انجیل کو سامنے رکھکر کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرئی کہ قرآن انھیں دونوں کتابوں کی عبارتوں اور کہانیوں سے کاپی پيسٹ ہوا ہےسواۓ محمدؐ کے تذکرے کے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اسلامی علماء و   محد ثین کی کتابوں کا بہت محنت اور باريکی سے مطالعہ کرکے ایسی خرافات اور جھوٹے قصے کہانياں جن سے کے ہماری کتابيں بھری ہوئی ہيں  تلاش کرئيں کہ جن سے  رسولؐ کی سيرت اور اسلام  کو داغدار  کیا جاسکے، جسکے ليے انکو زيادہ جستجو نہيں کرنی پڑی کيوں کہ مسلمانوں کا لٹريچر سارا ايسے ہی مواد سے بھرا پڑا ہے ـ يورپين نے مسلمانوں کی نامور دينی کتابوں کا انگریزی، لاطینی، جرمن، فرنچ اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ کیا جس کے باعث ساری عیسائی دنیا نے مسلمانوں کی کتابوں کا مطالعہ کرا۔  اسلام کو سمجھنے کيلے يورپين نے واقعتاً بہت محنت کرئی، ان لوگوں نے عربی زبان سيکھنےکے ليے مسلمانوں کی معتبر درسگاہوں اور جامعہ ازہر میں تعليم حاصل کرئی، کتنے ہی يورپينز نے اپنی زندگياں اس جستجو کيلے وقف کر ديں ـ انگريوی زبان ميں عربی کی مشہور لغت Lexicon Lane’s   انگلستان کے مشہور نواب لارڈ نارتھ ھمبر لينڈ نے تنہا اپنے خرچ پر مرتب کرايا جسکی تکميل ميں بيس سال صرف ہوۓ ـ اب وہ قران اور مسلمانوں کی کتابوں کا براہِ راست مطالعہ کر سکنے کے قابل ہو گيۓ ـ  اب وہ مسلمانوں پر براہ راست انکی کتابوں کو بنياد بناکر حملے کرنے لگے، جبکہ مسلمان جواباً حضرت موسٰیؐ يا حضرت عيسٰيؑ کی شان ميں گستاخی کرنے کی سوچ بھی نہيں سکتا ـ اسکے بجاۓ  مسلمانوں نے یہودیوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدار کرنے اور اسے باقی رکھنے کے لیے بے شمار نفرت انگیز قصے اپنی کتابوں میں جمع کردیے جن کو پڑھ کرہر مسلمان یہودیوں کو گالی دینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے۔ مساجد میں خطبۂ  جمعہ میں یہود و نصاریٰ پر لعنت بھیجنا اور ان کی بربادی کی دعا کرنا جزوِ ایمان بنا دیا گيا ۔                                                                         
  يہی سب کچھ کبھی عیسائی، یہودیوں کے خلاف کرتے تھے۔ صورتِ حال جب بدلی جب اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آگیا، اب عيسائيوں نے یہود دشمن لٹريچر نصاب سے خارج کر ديا۔ 1958 میں امریکہ نے Ben-Hur فلم بنا کر عیسائیوں کے اندر یہودیوں کے خلاف جو جارحانہ اور نفرت کا جذبہ تقریباً دو ہزار سال سے موجود تھا اس کو ختم کر دینے کی کامياب کوشش کرئی ـ             
 اس مختصر پس منظر کے بعد اب آيئے اس فلم کے مناظر کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، سچ تو يہ ہيکہ اس فلم کے پسِ پردہ عوامل کو سمجھانے کيلے ايک کتاب چاہيے ہے!
زید بن حارثہؓ حضرت خدیجہؓ کے غلام تھے آپؓ نے زیدؓ کو رسول اللہّ کے پاس ہبہ کردیا تھا۔ رسول اللہّ نے زيدؓ کو آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ زید بن حارثہؓ کے والد عرب تھے لیکن انِ کا شمار غلاموں میں ہو تا تھا۔ رسولؐ نے اللہ کے حکم کی تعميل ميں اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ کا نکاح اپنے منہ بولے بیٹے اور آزاد کر دہ غلام  یعنی زيدؓ سے کردیا تھا ۔                                                                            دراصل یہ نکاح عرب معاشرے ميں موں بولے بيٹے سے متعلق غلط رسم و رواج اور اونچ نيچ کو ختم کرنے کيلے کيا گيا تھا ـ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 37 پڑھيں:  ترجمۃ ـ اور جب تو کہنے لگا اس شخص کو جس پراللہ نے احسان کيا اور تو نے احسان کيا کہ رہنے دے اپنے پاس اپنی بيوی کو اور ڈر اللہ سے اور تو چھپاتا تھا اپنے دل ميں ايک چيز جسکو اللہ کھولنا چاہتا ہے اور تو ڈرتا تھا لوگوں سے اور اللہ سے زيادہ چاہے ڈرنا تجھکو، پھر جب زيد تمام کر چکا اس عورت سے اپنی غرض، ہم نے اسکو تيرے نکاح ميں دے ديا تاکہ نہ رہے مسلمانوں پر کوئی حرج نکاح کر لينے ميں اپنے لے پالکوں کی بيويوں سے جب وہ پوری کر ليں انُ سے اپنی غرض اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنا ہے ـ اسِ آيت کی جودرگت آپکے نامور عالموں نے تفسير کر کے کی ہے وہ اقبال نے بڑی خوبصورتی سے کہی ہے  :                                امتی باعثِ رسوائیِ پيغمبرؐ ہيں
اول يہ بات ذھن ميں رکہيں کہ حضرت زینبؓ آپکیؐ پھوپھی ذاد بہن ہيں جنکو آپؐ انکی پيدائش سے ديکھ رھے ہيں اور آپؐ ہی خود زید بن حارثہؓ سے حضرت زینبؓ کا نکاح بھی کرارہے ہيں ـ اب جيسا کہ مسلمانوں کے نامور اور جہيتے مفسرين نے اسلام کی آڑ لےکرنبيؐ کی شحصيت کو بدنام کرا ہے اور اس فلم ميں اس کی مکروہ انداز ميں منظر کشی کی گئی ہے، اگر بات ايسی ہی ہوتی تو نبيؐ پہلے ہی حضرت زینبؓ سے شادی کر سکتے تھے، اسکے ليے حضرت زینبؓ کا زیدؓ سے نکاح کرانے اور پھر طلاق دلاکر اپنے عقد ميں لانے کی کيا ضرورت تھی اور اگر اس  جھوٹ کو سچ مان ليا جاۓ تو ايک نبی کا مقام کيا رہ جاتا ہے ؟   
بات صرف اتنی سی تھی کہ آپؐ حضرت زینبؓ کے نکاح اور طلاق اور پھر اپنے ساتھ نکاح کرنے کی حقيقت اور مصلحت سمجھ چکے تھے، ايک بشرکی حيثيت سے آپؐ ڈرتے تھے کہ اپنی بہو سے نکاح کرلینے پرعرب معاشرے ميں ہنگامہ کھڑا ہو جاۓ گا آپکا يہ خوف اُس معاشرے ميں فطری تھا ،اللہ نے آپ کو یہ تنبیہ فرمائی ۔ ظاہر کرنے سے مطلب بلکل صاف  یہی ہے کہ یہ نکاح ہوگا، جس سے یہ قبيح رسم ختم ہو جاۓ گی۔
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذبِ حق نما ہے      يہ ہے بضاعت اپنی اور يہ ہے دفتر اپنا
سچ کہا علامہ اقبال نے:
 مکتب و ملّا واسرارِ کتاب           کورِ مادرزاد و نورِ آفتاب
یہ بات قابل ذکر ہے کہ خود نام نہاد مسلمان عالموں کی لکھی ہوئی سیرتِ رسول کی کتابوں میں یہ بات جگہ جگہ لکھی ہوئی ہے کہ نبیؐ کے دل میں حضرت زینبؓ کی محبت بیٹھ گئی تھی اور آپؐ چاہتے تھے کہ کسی طرح زیدؓ طلاق دے تو میں خود نکاح کرلوں ۔ آپکے نامور عالمِ دين حضرات نے مزے لے لے کراپنی تفسيروں ميں ميں لکھا ہيکہ: رسولؐ کے دل میں زینبؓ کے لیے جو کشش تھی  اسے رسول اللہّ چھپا رہے تھے، اللہ اس سے واقف تھا اس لیے زيدؓ سے طلاق دلا کر خود اللہ نے زینبؓ کو اپنے محبوب رسول کی پوشیدہ تمنا کو پورا کرتے ہوئے ان سے ان کا نکاح کردیا ـ
زميں کيا آسماں بھی تيری کج بينی پہ روتا ہے
غضب ہے سطرِ قرآن کو چليپا کر ديا تو نے
  ہمارے  قابل اور محترم علماءِ دين نے جو اسلام کی خدمت کی آڑ ميں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصوير کشی کرئی ہے اُسکو بنياد بناکر ہی يہ فلم بنائی گئی ہے يعنی SCRIPT آپکی ہی کتابوں کا  ہے انہوں نے صرف پردے پر لا کر دکھايا ہے - جب ايک غير مسلم قرآنی آيات کی ايسی تفسيريں  جو کہ خود مسلمان ائمہ اور مفسرين کی کرئی ہوئی ہيں پڑھتا ہے تو اِسکے بعد اُسکے کر نے کا کام تو تابوت ميں آخری کيل ٹھونکنا رہ جاتا لے، اب وہ کبھی کتاب لکھکر کبھی کارٹون بناکر اور کبھی فلم بناکر ٹھوکتا ہے ـ مسلمانوں کو غير مسلموں کے کيل ٹھوکنے پر بہت تکليف ہوتی ہے مگر اپنے خود کے ہاتھوں سے بنايا ہوا اسلام کا تابوت نظر نہيں آتا ! اور جو درد مند وہ تابوت دکھاۓ اسکو آپ لوگ کافرؤں کا ايجينٹ اور واجب القتل قرار دے ديتے ہو، فتؤں کے نشتر چبھوتے ہو ـ
 آئيں ايسی ہی ايک کيل کا پتہ نمونے کے طور پر آپکو دوں؛ ملاحظہ ہو 'تاريخِ طبری، آغاز و واقعات 5 ھجری'                                                                                                                                 { اے ميرے معبود، مجھے معاف کر دے  آگے لکھنے کی اس جرات پر، مجھ سے محسنِ انسانيتؑ کی توہين اب مذيد برداشت نہيں ہوتی }                                                                                               طبری جوکہ ايران کا رہنے والا تھا لکھتا ہيکہ " ايک دفعہ رسول اللہؐ زيدؓ سےملنے ان کے گھر گۓ، زيدؓ گھر پر نہيں تھے حضرت زینبؓ کپڑے پہن رہی تھيں، اس ہی حالت ميں رسول اللہؐ انکو ديکھ ليا اور يہ الفاظ کہتے ہوۓ باہر نکل آۓ: ترجمہ "پاک ہے خداۓِ برتر پاک ہے، وہ خدا جو دلوں کو پھير ديتا ہے"حضرت زيدؓ کو يہ حالات معلوم ہوۓ تو انہوں نے رسول اللہؐ کی خدمت ميں عرض کرا کہ زینبؓ اگر آپؐ کو پسند آگئی ہوں تو ميں انکوؓ طلاق دے دوں ــــــ                                                                                          کيا خيال ہے آپکا يہ پڑھکر ايک غير مسلم کے سامنے ميرے آقاؑ کی کيا تصوير ابھرے گی ؟؟؟؟؟؟         طبری کے علاوہ آپکے اور بھی بڑے بڑے علماؤں نے اس ہی طرح کی بہودہ روايتيں اور کہانياں رسول اللہؐ کی شان ميں گڑھی ہو ئی ہيں جن پر آپکو کوئی  اعتراض کبھی نہيں ہوا ہے ـ خدارا آنکھيں کھوليں،  اسلام اور رسول اللہؐ کے اصل دشمنوں کو پہنچانيں ـ
يہ پيرانِ کليسا وحرم ! اے واۓ مجبوری 
صلہ ان کی کدو کاش کا ہے سينوں کی بے نوری
اس فلم کا ايک اور منظر ماريہ قبطيہؓ کے ساتھ ام المومنين حضرت حفضہؓ کے کمرے اور بستر ميں رسول اللہؐ کےمباشرت کا ہے۔ اس کی تصویر کشی کے لیے بھی مواد آپکی معتبر تفاسيرِ قرآن سے لیا گیا ہے۔ سورۃ التحریم کی پہلی آيت میں اللہ فرماتا ہے کہ: ترجمہ     "اے نبی! جس چیز کو اللہ نے تيرے لیے حلال کردیا ہے اسے تو کیوں حرام کرتا ہے۔ کیا تو اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتا ہے؟"       اس آیت کی تفسیر میں آپکے علماءِ کرام نے جو جو کہانياں گڑھ کر صديوں پہلے رسولؐ کی سيرت کو داغدار کرا تھا وہ آجتک کسی کو نظر نہ آيا، آج اس ہی آپکے لکھے SCRIPT کی آپکے مخالفوں نے فلم بنادی ہے تو ساری دنيا ميں مسلمان چراغ پا ہيں !  
سنن نسائی میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک لونڈی تھی جس کو آپ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، ايسی ہی تفاصیل آپکی دوسری کتابوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ یہ حضرت ماریہ قبطيہؓ تھیں جن سے آپؐ ام المومنين حضرت حفضہؓ کے گھر، حضرت حفضہؓ ہی کے بستر پر جب کہ حضرت حفضہؓ گھر پر موجود نہیں تھیں ملے۔ اتفاق سے اس ہی دوران حضرت حفضہؓ آگئیں۔ ماریہ قبطيہؓ کو رسول اللہؐ کے ساتھ اپنے گھر میں خلوت میں دیکھکر رنج ہوا کہ ميری باری کے دن، ميرے گھر اور ميرے ہی بستر پر ؟ رسول اللہؐ نے انہيں رضامند کرنے کو قسم کھا کر کہہ ديا کہ ماریہ قبطيہؓ  کو ميں اپنے اوپر حرام کرتا ہوں اور حضرت حفضہؓ کو تاکید کی کہ اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرئيں ليکن حضرت حفضہؓ نے حضرت عائشۃؓ سے يہ واقعہ کہہ ديا ـ اللہ نے اپنے نبیؐ کو اسکی اطلاع کر دی، جب يہ آيتيں نازل ہوئيں تو آپنےؐ کفارہ ديکر اپنی قسم توڑی اور حضرت ماریہ قبطيہؓ سے ملے ۔ اس واقعہ سے متعلق سورۃ تحريم کی آيت نمبر پانچ ہے، جسکی تفسيريں ديکھکر غم سے ايک درد مند کے آنسو نکل جاتے ہيں ـ 
زرا سی بات تھی، انديشہِ عجم نے اسے      بڑھا ديا فقط زيبِ داستاں کيلے
 رسول اللہ کی دونوں بيويوں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ پر جنھوں نے رسولؐ کے ماریہؓ کے ساتھ باری کے بغیرجنسی تعلق پر ناراضگی کا اظہار کرا تھا ان پر اللہ نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے غصہ کرا اور کہا کہ اگر رسولؐ نے ان سے ناخوش ہوکر انھیں طلاق دیدی تو اللہ خود اپنے رسولؐ کو ان سے بہتر بیویاں دے گا ۔ انکی تفسيروں اور کتابوں کوپڑھ کر ايسا محسوس ہوتا ہيکہ ان نام نہاد عالموں پر جنسيات کا بھوت سوار رہتا تھا اور اپنے آقاؤں يعنی بنو عباس کی غلط کاريوں اور sexual perversion & anarchy  کو جائز قرار دينے کيلۓ يہ سب کچھ لکھکر اسلام کے موں پر کالک مل دی ـ ان حالات ميں عیسائی اور یہودی علما اور محققین کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ قرآن، حدیث اور سیرتِ رسولؐ کا مطالعہ ایک مسلمان کے جذبۂ عقیدت کی روشنی میں کریں گے 'ديوانےکی بڑ' سے زيادہ کچھ نہيں ۔
ايک اھم بات اس سلسلے ميں ذہن ميں ضرور رکھيں کہ اس واقعہ کو لکھنے والے مسلمانوں کے دورِ اول کے سارے عالم وفاضل سب کے سب شکست خوردہ ايرانی تھے جنہوں نے طاقت کے سامنے ہتھيار ضرور ڈال ديۓ تھے ليکن انکے دلوں ميں نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور ايرانيوں کی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے دشمنی اور بغض روزِ  روشن کی طرح عياں ہے ـ  دونوں امہات المومنين يعنی حضرت عائشہؓ، ابوبکرؓ کی صاحبزادی ہيں اور حضرت حفصہؓ  فاتحِ ايران  شيرِ اسلام  حضرت عمرؓ کی صاحبزادی ہيں ـ                                                                                                               اس ہی فلم ميں محمدّ کو حضرت عائشہؓ سے کہتےہوۓ دکھايا گيا ہيکہ ميں اپنے بعد تيرے باپ يعنی ابوبکرؓ کو خليفۃ بناؤں گا، خلافت اور اول تين خليفاؤں سے ايرانيوں اور شعيوں کو جو دشمنی ہے ا‎س ہی شدت کے ساتھ وہ آجتک قائم ہے ـ آپکے ان ايرانی الآصل عالموں نے، ان عظيم شخصيات اور حضرت عائشہؓ کی تذليل کرنے کا کوئی موقع اپنی تحريروں ميں ہاتھ سے کبھی جانے نہ ديا ـ اور آج آپکا وہ ہی لٹريچر آپکے گلے پڑ گيا ہے، يعنی آپکا ہی سر ہے اور آپکی ہی جوتی ـ
           ان لوگوں نے جھوٹی اور بيہودہ حديثيں ہی نہيں گڑھيں بلکہ قرآن کے متعلق بھی مشہور کرا کہ اسميں بھی بہت اختلافات ہيں اور رسول اللہؐ نے قرآن کو محفوظ شکل ميں امت کو نہيں ديا، اسے بھی بعد ميں آنے والوں نے مرتب کرا تھا ـ آپکے حديثوں کے مشہور امام ابوداود سليمان ابن اشعت سجستانی جنکی مشہور کتاب 'سنن ابو داود صحاح ستّہ ميں شمار کی جاتی ہے ـ جناب کے صاحب زادے، ابوبکر عبداللہ بن ابی داؤد نے ايک شہرہ آفاق کتاب "کتاب المصاحف" لکھی ـ اس کتاب کی خصوصيت يہ ہيکہ قرآن کے متعلق  شک و شبہات اور غلط فہمياں پھلانے کيليے جتنی جھوٹی روایتيں اور حديثيں گڑھيں گيں تھيں جو کہ مسلمانوں کی تمام حديثوں کی کتابوں منتشراً پھيلی ہوئيں ہيں انکو یکجا کر کے کتاب کی ايک مستند شکل دے دی ـ لگ بھگ 200 صفحات پر مشتمل يہ کتاب ميں يہاں نقل نہيں کر سکتا جس کے دل ميں جستجو، ايمان اور احترامِ قرآن ہو پڑھ لے ـ جو پڑھ لے وہ خدا کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ دل کو ٹٹولے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد کسی غير مسلم کے دل ميں قرآن کے متعلق کيا تصور پيدا ہو گا؟ کيا وہ قرآن کو اللہ کی کتاب مانے گا، کيا وہ قائل ہوگا کہ اسکا ايک ايک لفظ اللہ کی طرف سے ہے اور کيا يہ وہ ہی کتاب ہے جسکو اللہ نے رسول اللہؐ پر نازل کرا تھا، جسے رسول اللہؐ نے مسلمانوں کے پاس چھوڑا تھا ـ
                                                                                                                                         اب ميں آپ کو بتاتا کہ اس کتاب نے اسلام اور رسول اللہؐ کی کتنی بڑی خدمت کرئی ہے ـ ARTHUR JEFERY ايک فاضل مستشرق گزرے ہيں جنہوں نے مصر ميں رھ کر اسلام اور قران پرناقدانہ تحقيقی بہت زيادہ کام کرا ہے، انہوں نے ايک کارنامہ يہ کرا کہ قرآن کے متعلق ہماری کتابوں ميں جتنے اختلافات ہمارے نام نہاد عالموں فاضلوں نے لکھيں ہيں سب کو يک جا کرکے شائع کر ديا ـ انکی اس کتاب کا نام ہے  "MATERIAL FOR THE HISTORY OF THE TEXT OF QURAN "   يہ کتاب آپکو E.J.BRILL PUBLICATIONS  LONDON سے مل سکتی ہے ـ اسکے ساتھ ہی ساتھ ان محترم نے اس خيال سے کہ مسلمان يا کوئی يہ نہ کہے کہ ايک عيسائی نے اسلام دشمنی ميں جھوٹی تہمتوں کو يکجا کرکے شائع کر ديا ہے، ساتھ ہی ساتھ  سند کے طور پر آپکے پيارے امام ابنِ ابی داؤد کی کتاب 'کتاب المصاحف'  بھی من و عن شائع کرکے دنيا کے سامنے رکھ دی کہ يہ سب کچھ ميں نے دل سے جھوٹ  نہيں گھڑا ہے بلکہ مسلمانوں کی اپنی کتابوں ميں يہ سب لکھا ہوا ہے ـ لہذا آج غير مسلم مستشرقين آپکی ِان ہی کتابوں اور روايتوں کو سامنے رکھکر آپ پر حملہ آور ہوتے ہيں اور آپکے پاس چيں چيں ہاۓ ہو اودھم بازی کے علاوہ کوئی راستہ نہيں ـ
دل ہے مسلماں ميرا نہ تيرا ____  تو بھي نمازی ميں بھی نمازی
ميں جانتا ہوں انجام اس کا ____ جس معرکے ميں ملّا ہوں غازی
مزيد اس گھناؤنی فلم میں اُم قرفہ کے بہیمانہ قتل کی تصویر پیش کرکے یہ دکھايا گيا ہے کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ساتھ کس قدر وحشیانہ سلوک کر تے تھے اور اگر کوئی خوبصورت جواں عورت مل جائے تو ان کی رگ شہوت میں کتنا جوش پیدا ہوجاتا تھا۔ يہ منظر بھی آپکی ہی کتابوں کی منظر کشی ہے جنميں لکھا ہيکہ اُم قرفہ قبیلۂ بنو قریظہ کی حاکم تھی اس قبیلہ کے ساتھ جھڑپ ميں مسلمانون کو اول نقصان پہنچا تھا اور اميرِ لشکر زید بن حارثہؓ  زخمی ہو گۓ تھے۔ صحت مند ہونے کے بعد  پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو دوبارہ انتقامی کارروائی کے لیے اس قبیلہ سے مقابلہ کيلے بھیجا۔ مسلمانوں نے فتح یاب ہونےکے بعد اس پورے قبیلہ کے مردوں کو جن کی تعداد 900 تک آپکی کتابوں ميں لکھی ہے، ان کے سر قلم کردیے گئے۔ زندھ بوڑھی سردار ام قرفہ, اس کی دو ٹانگیں دو الگ اونٹوں کے پاؤں سے باندھ کر اونٹوں کو دو سمتوں ميں بھگايا گیا جس کے نتیجہ میں اس کے جسم کے دو حصے ہوگئے، مزيد اس کا سر کاٹ کرکے نیزے پر رکھ کر مدینہ ميں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ پھر اس ضعيف عورت کے سر کو مدینہ میں لوگوں کی عبرت کے لیے گھمانے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ۔ اُس رحمت للعٰلمين کی سيرت تو آپکے عظيم عالم، محدث صديوں پہلے داغدار کر گۓ اب غير مسلم کيوں انکو‎ رحمت للعٰلمين مانے؟                                                                                            آپکے سب صدرِ اول کے لکھنے والوں نے جو کہ سب کے سب ايرانی آتش پرست تھے اور اسلام سے کينہ و بغض ليے ہوۓ تھے منافق، اسلام کا لبادہ اوڑھکر بنو عباس کی پشت پنہائی ميں اسلام کی پيٹھ ميں خنجر گھونپا اورآنے والوں نے تحقيق، تنقيد، استدلال اور عقل سب سے موں موڑ کر صرف شخصيت پرستی، جھوٹی عقيدت، مفاد پرستيوں اور اندھی تقليد ميں مکھی پر مکھی بٹھائی ہے اور اسميں جو کسر باقی رہ گئی تھی آج کے زمانے ميں جناب صفی الرحمٰن صاحب نے "الرحيق المختوم" لکھ کر پوری کر دی اور اسلام کی اس خدمت کے صلے ميں سعودی حکومت سے بڑا انعام حاصل کرا ، جيسا کہ انکے پيشرو بنو عباس سے حاصل کيا کرتے تھے ـ  پھر آپ غير مسلموں سے کيا اميد رکھتے ہيں !
اس فلم کا ايک سين شادی کے وقت حضرت عائيشہؓ کی عمر کو لے کر ہے کہ آپؓ اس وقت چھ سال کی تھيں اور نبیؐ پچاس سال کے !!!!     اِسکی بھی بنياد اُن روایات پرہی ہے جن کو کہ مسلمان معتبر ترين قرار ديتے ہيں اور سينوں سے لگاۓ ہوۓ ہيں یعنی بخاری، طبری اور طبقات ابنِ سعد، سارے کے سارے اسلام کے بھيس ميں ايرانی آتش پرست اسلام کے بدترين دشمن ـ مسلمان کی ساری دشمنی صرف اور صرف يہود و ہنود و نصاریٰ سے ہے اپنے آستين کے سانپ اسکو دکھائی ہی نہيں ديتے اور جو کوئی انکو دکھاۓ تو اس مسيحا کو ہی سولی چڑھاديتے ہيں ـ                                                                                    ميرے آقاؐ اللہ کے آخری سچے نبی تھے، اللہ نے انپر اپنی آخری کتاب قرآن نازل کرئی ـ ايک نبی نہ صرف اپنی لائی ہوئی کتاب پر سب سے پہلے ايمان لاتا ہے بلکہ سب سے پہلے اس کتاب پر عمل کر کے انسانوں کو دکھاتا ہے ـ قران کی رو سے چھوٹی عمر ميں نکاح ہو ہی نہيں سکتا، قرآن نے تو بلوغت کو نکاح سے تعبير کرا ہے اوربلوغت اس عمر کو کہتے ہيں جب لڑکا اور لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ جائيں، ديکھۓ سورۃ النساء کی آيت نمبر چھ ـ                                                                                                  دوسری بات، نکاح کيلۓ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی قرآن دوسری شرط بتاتا ہے، ديکھيے سورۃ النساء کی آيت نمبر3 اور 19ـ ان دونوں شرائط کو پورا کرۓ بغيروہ نکاح نہيں بلکہ جنسی اختلاط کا طبعی Biological ذريعہ بن جاتا ہےـ قرآن ان دونوں کا فرق صرف دو الفاظ ميں ايسا واضح کرتا ہيکہ عقل وجد ميں آجاتی ہے: مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (24) النساء ـ غور کريں کہ بڑے بليغ انداذ ميں اللہ نے دو متضاد رويوں يعنی "محصنين" اور "مسافحين" کو آمنے سامنے لا کر بات سمجھائی ہے ـ محصنين بنا ہے عربی لفظ 'حصن' سے جسکے معنی ہيں خود کو پابنديوں ميں رکھنا نيز اسکے علاوہ عربی ميں حصن قلعے کو بھی کہتے ہيں يعنی حفاظت کی جگہ ـ جبکہ 'مسافحين'بنا ہے 'سفح' سے جسکے معنی ہيں 'بہانا' Pouring out لہذا جو رشتہ محصنين کے زمرے ميں نہيں آتا تو پھر لامحالہ سفح کے زمرے ميں چلا جاتا ہے، اميد ہيکہ قاری مطلب سمجھ گيا ہو گا ـ  آپ خود ہی انصاف کريں کہ کيا چھ سا کی بچی سے کوئی رضامندی بھلا کيسے لے سکتا ہے !!!                                                                                                     تو اے مسلمانوں کيا تم سوچ بھی سکتے ہو کہ جسپر يہ قرآن نازل ہوا ہو وہ ہی اسکی خلاف ورضی کرۓ گا، لاکھ ايران بخارا سمرقند اور طبرستان کے بخاری اور طبری کچھ بھی لکھيں کہيں ميں تو انکو جھٹلا کراپنے آقاؐ کو قرآن  پر عمل کرنے والا مانوں گآ ـ                                                                      کتنے ہی مفکر گزرے ہيں جنہوں نے مسلمانوں ہی کی تاريخ ميں بہت تدبر اور غور و خوص کے بعد ثابت کرا کہ شادی کے وقت حضرت عائيشہؓ کی عمر 17 سے21  سال تھی تو اس قوم کے ملّاؤں نے بجاۓ خوشی محسوس کرنے کے کہ آقاؐ پرلگی صديوں پرانی تہمت صاف ہوئی، ان تمام مفکرين پر کفر کے فتوے لگا کر واجب القتل قرار ديا ـ ايک نبی کی سيرت پر داغ لگتا ہے تو لگے قرآن کی آيتيں جھوٹی پڑتی ہيں تو پڑيں مگر بخاری اور طبری پر آنچ نہ آئے ـ کيوں کہ ملّا کو خود اتنی ہی عمر کی لڑکياں چاہيے ہيں پھر اپنی اس ضلالت کے ليے ملّا کو کوئی نہ کوئی جواز تو بنانا ہی پڑے گا، چاہے اسکی مار کسی پر بھی پڑے ـ                                                                                                                         ہندوستان ميں انگريز کے زمانے کے اس سلسلے کے مقدمات اٹھاکر ديکھ ليں کہ کسطرح ان ملّاؤں نے اسلام کا موں کالا کرا تھا انگريز کے سامنے  نابالغوں کی شادی کی وکالت و حمايت ميں ہندؤں کے ساتھ ملکر خاصکر حضرت عائيشہؓ کی عمر کو ليکر اچھال کر، اُس وقت مسلمانوں کی غيرت نہيں جاگی تھی ؟آج آپکو آپکے ہی لکھے SCRIPT کی بنی ہوئی فلم بری لگ رہی ہے اور خود جو صديوں سے اسلام اور آقاؐ کورسواء کرا ہوا ہے اسکا کيا ؟ سچ ہے مسلمان نفاق کے مرض ميں بری طرح مبتلا ہے اور 52 ملکوں ميں بسنے والی مشرق سے مغرب تک پھيلا يہ ريوڑ اِس ہی جرم کی پاداش ميں مبتلاۓ عذابِ الہٰی ہے ـ   
احکام تيرے حق ہيں، مگر اپنے مفسر
تاويل سے قرآن کو بناسکتے ہيں پاژند
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہء مسجد ہوں، نہ تہذيب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہيں، بيگانے بھی نہ خوش
ميں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
مشکل ہے اک بندہ حق بين و ح‍ق انديش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہِ دماوند
چپ رہ نہ سکا حضرتِ يزداں ميں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندہء گستاخ کا منہ بند
  ميں جانتا ہوں کہ ملّا کے دلفريب جال ميں پھنسے يہ مسلمان بہت جاہل جذباتی اور عقل سے بيگانہ ہيں، جذبات ميں آکر توڑ پھوڑ اور فساد پھيلانے ميں دير تو نہيں کرتے، ليکن عقل اور قرآن کی روشنی ميں سوچنے سمجھنے کو ہر گز تيار نہيں ہوتے ـ  مسلمان کی ساری تگ و دو صبح سے شام تک اور پيدا ہو نے سے قبر تک صرف  اور صرف پيٹ کے گرد ہی گھومتی ہے اس سے آگے کی مسلمان سوچ ہی نہيں سکتا، ميں جانتا ہوں کہ مسلمان ميری بات پر غور کرنے کے بجاۓ الٹے ميرا ہی دشمن ہو جائے گاـ
کیا مرا تزکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن ميں
تو پيرِ ميخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے، خوار ہو گا
چمن ميں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
يہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں ميں شمار ہو گا
يہ رسمِ بزمِ فنا ہے اے دل، گناہ ہے جنبشِ نظر بھی
رہے گی کيا آبرو ہماری جو تو يہاں بے قرار ہوگا
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانہ ابھی وہی کيفيت ہے اس کی
کہيں سرِ رہ گزار بيٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا
ليکن ميں بہت خوش ہوں کہ اس ديارِ ظلمت ميں سينہ ٹھوک کر اپنے نبیّ اور اسلام کی وکالت کرؤں گا، چاہے جان جاتی ہے تو جاۓ مگر ميں روزِ محشر بری ذمہ ہوں گا کہ امتیِ محمدؐ کی حيثيت سے ميں نے اپنا فرض ادا کر ديا تھا ـ کوئی يہ نہ سوچے کہ ميں ملّا پرتہمت لگا رہا ہوں حقيقت يہ ہے کہ ميں خود بھی کبھی ملّا تھا اسلۓ اِنکی اندرونِ خانہ حالت اور نفسيات مجھپرخوب اچھی طرح آشکارا ہيں ـ                                                                      
 آے مسلمانوں تم پر پہلی وحی ہی آئي تھی 'اقراء'، تم کو پہلا حکم ہی تمہارے رب نے 'پڑھنے' کا ديا تھا افسوس کہ تمہارے تقليد کے مرض نے تمپر تحقيق وتنقيد کو حرام کرکے تمکو اس حکم کو پورا کر نے کے قابل نہ چھوڑا، تم اگر پڑھتے بھی ہو تو وہ بھی صرف پيٹ پوجا کيلے ـ                                                يہود و ہنود و نصا ریٰ کا صديوں پرانا رونا چھوڑو، وہ تو اپنا کام اپنے عقيدے کے مطابق ديانتداری سے ويسا ہی کر رہے ہيں جيسا کہ انکو کرنا چاہے ____ تم کيا کر رہے ہو،صرف ہرسانحہ کے بعد، مسلمان ملکوں ميں توڑ پھوڑ، قتل و غارت گری، اور غير مسلم ملکوں ميں سر جھکا کر پر امن مرچ اور احتجاج ؟ اے مسلمانوں اپنا محاسبہ خود کر لو اس سے پہلے کہ مہلت کی مدت ختم ہو جاۓ اور تم پر قدرت کا "قا نونِ مکافاتِ عمل" تمھارا محاسبہ کرۓ ـ
ہے کس کی يہ جرات کہ مسلمان کو ٹو کے _ حريتِ افکار کی نعمت ہے خداداد
چاہے تو کرے کعبے کو آتش کدہء پارس _ چاہے تو کرے اس ميں فرنگی صنم آباد
قرآن کو بازيچہء تاويل بنا کر! ____ چاہے تو خود اک تازہ شريعت کرے ايجاد
وسلام  ناصر علی 
دو  نمونے ملاحطہ ہوں آپکی بلند پايہ تفسير ابنِ کثير سے
Your comments even raving and ranting are welcome on my E-mail address: islamvsislam@hotmail.com


Popular Posts