HAJJ & QURBANI (Urdu)

 'HAJJ & QURBANI,' in the light of  the Quran.

 

'وَذََ كِّرْ بَِهِ أََنْ تَُبْسَلَ نََفْسٌ بَِمَا كََسَبَتْ )َ 07 ( سَورۃ اَلانعام اور نَصيحت کَر اََِنکو قَرآن سَے تَاکہ گَرفتار نَہ ہَوجاۓ کَوئی اَپنے کَيے مَيں ۔َ

 گنگا جمنا کے گھاٹوں پر بسنے والا برہمن، اسلام آباد يا کابل کا مسلمان، قاہرۃ، مکۃ يا مدينۃ کا مومن، ويٹيکن سٹی يا نارمنڈی کا عيس ا ئَی ہَو يا پھر يروشلم ميں رہنے والا يہودی، يہ سب قران کی رو سے بحثيت انسان قابل احترام ہيں سورۃ بنی اسرايل ميں اللہ کہتا ہے: وَلَقَدْ كََرَّمْنَا بََنِي آَدَم ، اور ہم نَے آَدم کَی اَولاد کَو عَزت دَی َََ يہ تمام انسان عليحدہ عليحدہ ماحول ميں آنکھ کھولتے ہيں، مخصوص حالات ميں پرورش پاتے ہيں صبح سے شام تک کتنے ہی گھريلو، معاشرتی، اور ثقافتی معاملات ہوتے ہوۓ ديکھتے ہيں اور انميں سے ہر ايک، اپنےماحول کی تربيت کے باعث ايک مخصوص اندا ز زندگی اور عقيدہ اختيار کر ليتا ہے اور اس ہی حالت ميں زندگی گزار کردنيا سے چلا جاتا ہے انسانوں کی اکثيريت عموم ا بلا سوچے سمجھےوہ کچھ کرتی اورکہتی ہے جواپنےآباؤاجداد سے سنتی يا ا نکوکرتےديکھتی چلی آرہی ہوتی ہے ايسی باتوں ،عقيدوں اورکاموں کے سہی ہونے کی دليل سواۓ اسکے کچھ نہيں ہوتی کہ يہ سب نسل در نسل متوارث چلی آرہی ہوتی ہيں ا ن چيزوں پر انسان بنيادی طور سے اسليۓ غور نہيں کرتا يا ضرورت محسوس نہيں کرتا کہ اول تو ذھ ن انسانی بڑا آرام طلب واقع ہوا ہے اور غور و فکر کرنے سے بڑی اور کوئی محنت طلب چيز اس روۓ زمين پر نہيں ہے، اسلۓ انسان اس سے جی چراتا ہے دوسرے جيسا کہ سورۃ القيامۃ مَيں اللہ نے فرمايا: كَلاَّ بََلْ تَُحِبُّونَ اَلْعَاجِلَةَ )َ 07 ( وََتَذَرُونَ اَلآخِرَۃَ )َ  ( تَرجمۃ: ہَرگزنہيں، تَمَ چاہتے ہَو جَو جَلدی سَے مَل جَاۓ اَور چَھوڑديتے ہَو جَو اَسکے بَعدميں آَنے وَالا ہَے َ يََََعنی اَنسانَ فوری فَايدے کَے پَيچھے بَھا گَتا ہَے َ مذيد براں جب کسی عقيدے يا مسلمۃ کے گرد مذہبی تقدس و عقيدت کا حالہ قائم ہو جاۓ تو انسان اسپر تنقيدی نظر ڈالتے ہوۓ گھبراتا ہے اس سے بھی بڑھکر سوچ بچار کے راستے ميں سب سے بڑی رکاوٹ آباؤاجداد کی اندھی تقليد ھوتی ہے اس بارے ميں قران کيا کہتا ہے ،آگے بڑھنے سے پہلے ديکھنا ضروری ہے: إِنَّھُمْ أََلْفَوْا آَبَاءَهُمْ ضََالِّينََ 96 ( فََھُمْ عََلَى آَثَارِهِمْ يَُھْرَعُونَ )َ 07 (الصافات، تَرجمہ: اَنہوں نَے پَايا اَپنے بَاپ دَاداؤں کَو بَہٹکا ہَواَ ( سو وَہ اَنہی کَے قَدموں پَر دَوڑتے رَہے پھر مذيد سمجھايا کہ: وَمِنْ اَلنَّاسَِ مََنْ يَُجَادِلُ فَِي اَللََِّّ بَِغَيْرَِ عِلْمٍ وََلا هَُدًى وََلا كَِتَابٍ مَُنِيرٍ )َ 07 ( وََإِذَا قَِيلَ لََھُمْ اَتَّبِعُوا مََا أََنزَلَ اَللََُّّ قََالُوا بََلْ نََتَّبِعُ مََا وََجَدْنَا عََلَيْهِ آَبَاءَنَا أََوَلَوَْ كَانَ اَلشَّيْطَانُ يََدْعُوهُمْ إَِلَى عََذَابِ اَلسَّعِيرِ )َ 02 ( لَقمان، تَرجمہ :َ اَور بَعضلَوگ اَيسے ہَيں کَہ اَللَّ کَےَ بارے مَيں جَھگڑتے ہَيں جَبکہ نَہ وَہ کَوئی عَلم رَکھتے ہَيں نَہ ہَدايت اَور نَہ کَتابَِ رَوشن َ اَور جَبَ ان سَے کَہا جَاتا ہَيکہ اَللَّ کَی کَتاب کَی پَيروی کَرو تَو کَہتے ہَيں کَہ ہَم تَو اََُسکی پَيروی کَرئيں گَےَ جسپر ہَم نَے اَپنے بَاپ دَاداؤں کَو پَا يَا، بَھلا اَگرچہ شَيطان اََُنکو دَوزخ کَے عَذاب کَی طَرف بَلاتا ہَوَ تب بَھی! اوراللہ نے بلکل واضح کر ديا جب کہا کہ وَإِذَا قَِيلَ لََھُمْ اَتَّبِعُوا مََا أََنزَلَ اَللََُّّ قََالُوا بََلْ نََتَّبِعُ مََاَ أَلْفَيْنَا عََلَيْهِ آَبَاءَنَا أََوَلَوْ كََانَ آَبَاؤُهُمْ لَا يََعْقِلُونَ شََيْئاً وََلا يََھْتَدُونَ )َ 207 (البقرۃ، تَرجمہ:اور جَب اَن لَوگوںَ سے کَہا جَاتا ہَے کَہ جَو کَتاب اَللَّ نَے نَازل کَری ہَے اَسکی پَيروی کَرؤ تَو کَہتے ہَيں نَہيں ہَم تَو اََُسَ چيز کَی پَيروی کَريں گَے چَس پَر ہَم نَے اَپنے بَاپ دَاداؤں کَو پَايا َ اَگرچہ اََُنکے بَاپ دَادا نَہ کَچھَ سمجھتے ہَوں اَور نَہ سَيدهے رَستے پَر ہَوں تَب بَھی يَہ لَوگ اََُنہی کَی تَقليد کَۓ جَائيں گَے ! جو لوگ اندھی تقليد کر رہے ہيں تو پھر ايسے لوگوں کو انکا انجام بھی اللہ نے صاف صاف بتا ديا، 2 قرآن سے ہی سنئيں: وَلَقَدْ ذََرَأْنَا لَِجَھَنَّمَ كََثِيراً مَِنْ اَلْجِنِّ وََالإِنسِ لََھُمْ قَُلُوبٌ لَا يَََفْقَھُونَ بَِھَا لََھُمْ قَُلُوبٌ لَاَ يَفْقَھُونَ بَِھَا وََلَھُمْ أََعْيُنٌ لَا يَُبْصِرُونَ بَِھَا وََلَھُمْ آَذَانٌ لَا يََسْمَعُونَ بَِھَا أَُوْلَئِكَ كََالأَنْعَامِ بََلْ هََُمْ أََضَلُّ أَُوْلَئِكَ هَُمَْ الْغَافِلُونَ )َ 206 (الاعراف، تَرجمہ :َ اَور کَتنے ہَی جَن اَور اَنسان ہَيں )َجواپنے غَلط اَعمال کَےَ باعث(جنہيں ہَم نَے جَہنم کَيلے پَيدا کَيا ہَے يََہ اَسليے کَہ اَنکو عَقل دَی ہَم نَے مَگر اَس سَے سَمجھَ بوجھ کَا کَام نَہيں لَيتے، آَنکھيں دَئيں مَگر اَس سَے دَيکھنے کَا کَام نَہيں لَيتے، کَان دَيے مَگر اَن سَےَ سنے کَا کَام نَہيں لَيتے يَہ لَوگ بَلکل جَانوروں کَی طَرح ہَيں، بَلکہ جَانوروں سَے بَھی بَدتر )َکيوں کَہَ جانوروں کَو عَقل ہَی نَہيں دَی گَئی(، يَہ ہَی ہَيں وَہ لَوگ جَو يَکسرغفلت مَيں ڈَوبے ہَوۓ ہَيں َََ اس عمومی انسانی رويہ سے قطع نظر، سچائ اور حقيقت يہ ہيکہ علم وبصيرت، دليل و برہان اور تحقيق و تفتيش کے بعد جس نتيجے پر پہنچا جاۓ وہی حق ہے قرآن کہتا ہيکہ: وَالَّذِينَ إَِذَاَ ذُكِّرُوا بَِآيَاتِ رََبِّھِمْ لََمْ يََخِرُّوا عََلَيْھَا صَُمّاً وََعُمْيَاناً )َ 07 ( اَلفرقان، تَرجمۃ: يَہ وَہ لَوگ ہَيں کَہ جَنکےَ سامنےجب آَياتَِ خَداوندی بَھی پَيش کَی جَاتی ہَيں تَو وَہ اَنکو بَھی بَہرےاوراندهے ہَو کَر قَبول نَہيںَ کرتے)يعنی عَقل وَفکرکے پَيمانوں کَے مَطابق قَبول کَرتے ہَيں( مذيد فرمايا کہ : وَلا تََقْفُ مََا لََيْسََ لَكَ بَِهِ عَِلْمٌ إَِنَّ اَلسَّمْعَ وََالْبَصَرَ وََالْفُؤَادَ كَُلُّ أَُوْلَئِكَ كََانَ عََنْهُ مََسْئُولاً )َ 79 ( بَنی اَسرايل، تَرجمۃ اَور مَوںَ سے نَہيں نَکال وَہ بَات جَسکا تَجھے عَلم نَہ ہَو، بَيشک ہَر شَخصسَے اََِسکی پَوچھ ہَوگی کَہ کَچھَ کہنے سَے پَہلے سَماعت،بصارت اَوردل سَے سَمجھ بَوجھکربولا تَھا کَہ نَہيں َ دين صرف يقين کی بنيادوں پر کھڑا ہو سکتا ہے ظن قياس اور شک و شبہ، دين کو بنياد فراہم نہيں کرسکتے چناچہ ارشا د ربانی ہے: وََمَا يََتَّبِعُ أََكْثَرُهُمْ إَِلاَّ ظََنّاً إَِنََّ اَلظَّنَّ لَا يَُغْنِي مَِنْ اَلْحَقِّ شََيْئاً إَِنَّ اَللَََّّ عََلِيمٌ بَِمَا يََفْعَلُونََ 79 ( يَونس، تَرجمہ، اَور اَِن مَيں سَے اَکثرلوگ ظَن کَے سَواۓ اَور کَسی چَيز کَا اَتباع نَہيں کَرتے،َ ( يقيناًَ ظَن، حَق کَے مَقابلہ مَيں کَوئي فَايدہ نَہيں دَے سَکتا ،َاور يَہ جَو کَچھ کَرتے ہَيں اَللَّ اََُس سَےَ خوب وَاقف ہَے ہم جيسے بسنت کا تہوار پتنگيں اڑا کر منا ليتے ہيں ايسے ہی ش ب برات بھی حلوہ کھا کر اور پٹا خے پھوڑ کر منا ليتے ہيں کبھی يہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہيں کرتے کہ آخر ہم ايسا کيوں کرتے ہيں؟ ميرے عزيز دوستوں اس رويہ کے باعث، 25 ملکوں ميں بسی تقريب ا 5 بلين يعنی دنياء کی 52 ٪ مسلمان آبادی، ذلت کی زندگی صديوں سے گزار رہی ہے حقيقت ا آيا ت خداوندی سے رو گردانی کی يہ تو يہاں کی سزا ہے، ليکن ا س سے بھی زيادہ دردناک بات وہ ہے جس سے صاح ب بصيرت کی روخ کانپ اٹھتی ہے ارشا د ربانی ہے: وَمَنْ أََعْرَضَعَََنْ ذَِكْرِي فََإِنََّ )َ لَهُ مََعِيشَةً ضََنكاً وََنَحْشُرُہُ يََوْمَ اَلْقِيَامَةِ أََعْمَى )َ 201 ( قََالَ رََبِّ لَِمَ حََشَرْتَنِي أََعْمَى وََقَدْ كَُنتُ بََصِيراً )َ 201 قَالَ كََذَلِكَ أََتَتْكَ آَيَاتُنَا فََنَسِيتَھَا وََكَذَلِكَ اَلْيَوْمَ تَُنسَى )َ 209 ( وََكَذَلِكَ نََجْزِي مََنَْ أََسْرَفَ وََلَمْ يَُؤْمِنْ بَِآيَاتِ رََبِّهَِ وَلَعَذَابُ اَلآخِرَۃِ أََشَدُّ وََأَبْقَى )َ 200 ( طَ ہَ، تَرجمۃ، اَور جَو کَوئی مَيرے اَس قَران سَے مَنہ پَھيرے گَا تَوَ اسکے لَيے تَنگی کَا جَينا ہَو گَا اَور قَيامت کَے دَن ہَم اََُسکو اَندها کَر کَے اََُٹھائيں گَے وَہ تَعجب سَےَ کہے گَا، اَے مَيرے رَب تَو نَے مَجھکو اَندها کَر کَے کَيوں اَٹھايا، مََيں تَو دَنياء مَيں آَنکھوں وَالا تَھا!َ ارشاد ہَو گَا اَيسے ہَی تَيرے پَاس مَيرے اَحکامات پَہنچے تَھے، تَو تَو نَے اََُنکو بَھلا دَيا تَھا اَور اَِسَ ہی طَرح آَج ہَم تَجھکو بَھلا دَئيں گَے اَِس ہَی طَرح هَم دَيتے ہَيں بَدلہ اَُنکو جَوحد سَے بَڑه جَاتے ہَيں -َ اور نَہيں لَاتے اَيمان اَپنے رَب کَی آَيتوں پَر، اَور آَخرت کَا عَذاب بَہت شَديد اَور قَائم وَدا ئَم رََہنےَ والا ہَے - 3 حج : دي ن اسلام کےاس لازمی رکن کےمسائل بتانا ميری تحرير کا مقصد ہر گز نہيں ہے يہ سب مجھ سے بہت بہتر بتانے والے آپکوہر گلی ميں مل سکتے ہيں ميں قران کا طال ب علم ہو نے کی - حيثيت سےاپنی قرآن فہمی کے مطابق، حج کا فلسفہ بيان کرنا چا ہوں گا - قرآنی احکامات کا بنيادی فلسفہ جان ليں کہ جسطرح ا نپر عمل کرنے سے نتيجہ نکلتا ہے ا س ہی طرح ا نپر عمل نہيں کرنے سے بھی نتائج برآمد ہوتے ہيں مثلا قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ نماز کے نظام پر عمل کرنے سے کيا نتيجہ نکلتا ہے اور چھوڑنے سے کيا ہو گا، روزہ، زکواۃ کے احکامات کے نتائج دونوں صورتوں ميں، بلکل واضح بيان کر ديے گيے ہيں، تاکہ نتائج کو ديکھتے ہوے اپنےاعمال کو جانچتے رہيں کہ وہ کہيں بے روح وجان پوجا پاٹ ميں تو نہيں بدل گۓ دي ن اسلام کے احکامات سائنسی اصول " ہر عمل کا ر د عمل ہوتا ہے" کا عملی مظاہرۃ - ہيں- اسلامی احکامات پوجا پاٹ نہيں ہيں کہ دونوں صورتوں ميں نتيجہ صفررہے، اس ہی طرح اللہ کے احکامات کا مقصد قرآن کی رو سے اللہ کو خوش کرنا نہيں ہے، نہ ہی حج کوئی يا ترا ہے کہ " ہری دوار" يعنی ہری کے پاس ہوکر آنا جانا ہے! جس سے ہری بھگوان خوش ہوگا- انسان قدرتی طور سے مجبور ہيکہ اسکو مل جل کررہنا ہے، جانوروں کی طرح جنگلوں ميں اکيلے زندگی نہيں گزار سکتا جب انسان مل جل کر رہتا ہے تو مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے، جسکے باعث باہمی رنجشيں، چپکلشيں، دشمنياں اور انجا م کر فساد ،جنگ۔ قتل و غارتگری ہوتی ہے دو آدميوں کے مفادات، دو قبيلوں کے مفادات اور کرہ ارض پر وسعت دئيں تو قوموں کے مفادات ميں ٹکراؤ دي ن اسلام کے تمام احکامات کی غرض وغايت ميں ايک عنصر يہ بھی شامل ہيکہ انسان بغير ٹکراؤ کے امن وآشتی کے ساتھ رہ سکيں اس مقصد کے حصول کيليے اب اللہ کے – احکامات پر غور کرتے ہيں مسلمان ہونے کيليے" کلمہ" پہلی شرط ہے، کلمہ پڑھتے ہی ديرنہيں ہوتی کہ اسلام کا پہلا مطالبہ" صلاۃ" کی شکل ميں سامنے آ جاتا ہے ، اب ايک مسلمان کو مسجد پہنچنا ہے! آج کی يا مسلمانوں کی مروجہ مسجدوں سے قطع نظر، جنکا گزارہ چندے کی بھيک پر ہوتا ہے يا جنکے قيام کا مقصد ہی کسی کی دال روٹی ہوتی ہے، اسلام کی حقيقی مسجد کا مقام اور کردار سمجھنا ہے تو مسج د نبوی کی اولين دور کی تاريخ يعنی حضو ر اکرمؐ سے ليکر خليفۃ راشدين تک کو سمجھنا ہوگا حقيقی مسجد کی ابتداء سوشل سينٹر کی حيثيت سے ہوتی ہے تواسکی انتہا مسلمانوں کا پارليمنٹ ہاؤس ہے،مسجد کو اسکا حقيقی مقام لوٹا ديجۓ، چندھ مانگنے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاۓ گی مختصر ا ، حقيقی اسلامی نظام ميں، مسجد مقامی طور سےليکر ملکی سطح تک انسانی مسائل کے حل اور امن وآشتی کا مرکز ہو تی ہے ، جہاں دن ميں پانچ دفعہ مسلمان آپس ميں ملنے جلنے اور ايکدوسرے کے مسائل جانے کے باعث انکے حل کی مقامی طور سے کوشش کرتےہيں ،جومعاملات وہاں حل نہيں ہو سکتے ايسے معاملات کو علاقے کی جامعہ مسجد ميں ليکر جائيں گے علٰی ہذاالقياس ! اسطرح مقامی طور سے مساجد امن محبت بھائی چارگی اور افہام وتفہيم سے انسانی مسائل کے حل کے مراکز اسلامی معاشرے ميں ہيں اسکے بعد بين الاقوامی امن اور مسائل کے حل کيليے اللہ نے وہ طريقہ انسانوں کو سکھايا کہ جسپر انسان اب خود ٹھوکريں کھاکر اور خون کی نديان بہا کر پہنچا ہيکہ جہاں ليگ آف نيشنز اور اقوا م متحدہ کا ادارہ قائم کرنے کے بعد )يہ الگ بات ہيکہ يہ ادارہ انسانی خود غرضيوں کی نطر ہو گيا ہے( اب " ون ورلڈ " کی طرف بڑھ رہا ہے جس نطام تک انسانی ذہن، 4 تمدن کی صدياں ضائع کر کے پہنچا ہے، ا س نطام کو اللہ تعالی نے 0221 سال پہلے کہ جب ساتھ والے گاؤں کی خبر بھی بمشکل مل پاتی تھی انسان کو متعارف کرا ديا تھا ا س دور کا تصور تو کرئيں اور پھر قرآن کی ان آيت پر غور کرئيں: كَانَ اَلنَّاسُ أَُمَّةً وََاحِدَۃً فََبَعَثَ اَللََُّّ اَلنَّبِيِّينَ مَُبََشِّرِينََ وَمُنذِرِينَ وََأَنزَلَ مََعَھُمْ اَلْكِتَابَ بَِالْحَقِّ لَِيَحْكُمَ بََيْنَ اَلنَّاسِ فَِيمَا اَخْتَلَفُوا فَِيهَِ )َ 027 ( اَلبقرۃ ،َ تَرجمہ: تَمام اَنسانَ ايک اَمت تَھے، پَھر اَللَّ نَے خَوشخبری اَور ڈَر سَنانے وَالے اَنبياء بَھيجے اَور اَنکے سَاتھ اَتاریَ کتاب حَق کَے سَاتھ کَہ فَيصلہ کَرے لَوگوں کَے دَرميان جَس بَات مَيں وَہ اَختلاف کَريں حتمی طور سے چونکہ بنی نوع انسان نے ايک قوم بنکر رہنا ہے لہذا اللہ نے انبياء کے ذريعے واضح تعليمات بھيجئيں کہ کسطرح انسانوں نے باہمی معاملات کرنے ہيں جسکے باعث )َ روۓارض پر تصادم نہ ہو چناچہ ارشاد ہوا: إِنََّ هََذِہِ أَُمَّتُكُمْ أَُمَّةً وََاحِدَۃً وََأَنَا رََبُّكُمْ فََاعْبُدُونِ )َ 60 الانبياء ،َ تَرجمۃ: تَمہاری يَہ اَمت،ايک اَمتَِ وَاحدہ ہَےاور اَس اَيک ہَو نَے کَی وَجہ اَس حَقيقت پَرَ ايمان ہَيکہ اََِن سَب کَا پَروردگارايک ہَے اللہ نے اپنے حتمی احکامات، قران کی شکل ميں انسانوں کے پاس محفوظ کر ديے ا ن احکامات کا مقصد تمام انسانوں کو ايک برادری کا تصور د يکر جمعي ت اقوام کے بجاۓ جمعي ت آدم کی عملی شکل کی تشکيل ہے يوں تو اسلام کے تمام فرائض واحکامات انسان کو اس ہی مقصد کی طرف ليکر جاتے ہيں ليکن اسکا نقطہ عروج و تکميل،عرفات کے ميدان ميں حج کے اجتماع کی شکل ميں ہوتا ہے قرآ ن کريم ميں اللہ نےحج کے مقصد اورغايت کو دو مقامات پر بلکل واضع الفاظ ميں بيان کر ديا ہے حج کے اجتماع کا مقصد يہ بتايا کہ: لِيَشْھَدُوا مََنَافِعَ لََھُمْ )َ 02 ( اَلحج، تَرجمۃ ،َتاکہ لَوگ دَيکھ لَيںَ کہ اَسميں اَنکے لَيے کَسَقدر فَايدے ہَيں اور حج کی غايت يہ کہہ کر واضح کر دی : جَعَلَ اَللََُّّ اَلْكَعْبَةََ الْبَيْتَ اَلْحَرَامَ قَِيَاماً لَِلنَّاسِ )َ 60 ( تَرجمۃ ،َ اَللَّ نَے عَزت کَے گَھر يَعنی کَعبہ کَودنياء مَيں اَنسانيت کَو قَائمَ رکھنے کَيلے بَنايا سوچيں کہ دنيا ميں اس سے بلند و ارفعاع مقصد اور کيا ہو سکتا ہے کہ ايسا اجتماع ہو جو شر ف انسانيت اور قيا م انسانيت کا باعث ہو جاۓ قرآن کی آيات سے حج کا مفہوم بلکل واضح ہيکہ ، بلا تفريق رنگ و نسل، وطن و زبان جو صرف اس بات پر يقين رکھيں کہ حاکميت کا حق صرف اللہ کا ہے، محکوميت انسان پر صرف اللہ کی اختيار کرنے کا حق ہے ، ايک جيسا لباس زيب تن کر کے، اپنا اپنا ايک امير مقرر کر کے عرفات کے ميدان ميں جمع ہو جائيں ،اس عظيم اجتماع کی خورد و نوش کی ضروريات کے م د نظرقربانی کا طريقہ اختيار کرا گيا تمام ممالک، علاقوں اور قوموں کے احوال اور مسائل پر تفصيلا گفتگو ہو، انکا حل تمام انسان باہمی مشاورت سے حدو د خداوندی کے اندر رہتے ہوۓ نکاليں، جيسا کہ فرمايا : وَأَمْرُهُمْ شَُورَى بََيْنَھُمْ )َ 72 ( اَلشوری َ تَرجمۃ :َ اَوريہ آَپس کَے کَام مَشورے سَے کَرتے ہَيں تمام غور و فکر و مشاورت کے بعد حج کيلےسبکا متفقہ چنا ہوا امير اپنے خطبہ حج ميں اگلے سال کی پاليسيوں کا اعلان کر ديگا جن پر عمل کر کے تمام انسان اپنے معا ملات چلائيں گے اس دوران اگلے حج تک جب بھی کوئی ضروری معاملہ ہوگا تو بنی نوع انسانوں کے ہيڈ کوارٹر مکہ جانا ہو گا، يہ آنا جانا لگا رہے گا، جسکا نام "عمرۃ " ہے سورۃ التوبۃ پر غور کرئيں کہ کس طرح حضرت عل ی حضو ر اکرمؐ کی طرف سے حج کے موقع پرتاريخی "اعلا ن برأت" کرتے ہيں، اس سے پہلے حضو ر اکرمؐ کا تاريخی "خطبۃ الوداع" بھی آپؐ نے حج کے اجتماع ہی ميں ديا تھا 5 ميرے عزيز بھائيوں اور بہنوں، قرآن کی آيات کی روشنی ميں حج کی حقيقت کو سمجھنے کی کوشش کريں اور مسلمانوں نے خلافت کو ملوکيت ميں بدلنے کے بعد جو حج کو صرف " ياترا" ميں بدل کر چند رسوم کا بے جان و بے مقصد مجمعوعۃ بنا ديا ہے ا سپر بھی غور کريں ! مسلمانوں کی دونوں عظيم سلطنتيں يعنی سلطن ت عثمانيۃ اور مغليۃ سلطنت، اللہ کی آيتوں سے رو گردانی کی پاداش ميں عرصہ ہوا خاک ميں مل گيئں ہوش ميں آؤ: وََلا تََتَّخِذُوا آَيَاتِ اَللََِّّ هَُزُواًَ 072 (البقرۃ، تَرجمۃ :َ اَللَّ کَی آَيتوں کَا مَذاق تَماشہ نَہيں بَناؤ ورنہ خود تماشہ بن جاؤگے بلکہ بن ( ہی چکے ہو پلٹو اپنے رب کی طرف، جو کہتاہے : فَإِنََّهُ كََانَ لَِلأَوَّابِينَ غََفُوراً )َ 01 ( بَنی اَسرائيل ،ََ ترجمۃ :َ تَو وَہ رَجوع کَرنے وَالوں کَو بَخشتا ہَے َ کئی صديوں سے عال م اسلام چاروں طرف سے ہر طرح کے مصائب و آلام ميں گرفتار ہے، مسلمانوں کے نام نہاد ليڈر فائيو اسٹار ہوٹلوں،محلوں اور ٹيورسٹ مقامات پر کانفرنسيں کرکر کے قوم کا مال لٹا رہے ہيں، اخوت اور رابطے کا شور ہر وقت ميڈيا پر ہے اور نتيجہ صفر کسی کی نگاہ دين کے ا س لازمی رکن کی طرف نہی جاتی،جسکوخدا نے ہمارے ليے متعين کيا ہے آج بھی مسلمان اگر اللہ کی طرف پلٹيں تو يہ حج مسلمانوں کی کانفرنسوں کا نعمل بدل ہو جاۓ اس موقع پر آپکو ايک لطيفہ سناتا ہوں، شاہيد کسی مسلمان کی سمجھ ميں قرآن کی يہ آيت آجاۓ : لَقَدْ خََلَقْنَا اَلإِنسَانَ فَِي أََحْسَنِ تََقْوِيمٍ )َ 1( ثَُمَّ رََدَدْنَاہَُ أَسْفَلَ سََافِلِينَ )َ 1( اَلتين ،َ تَرجمہ :َہم نَے اَنسان کَو بَہترين اَنداز پَر بَنايا پَھر اَسکی حَالت کَو پَست سَےَ پست کَر دَيا تو بھائيوں پستی کی حالت ديکھو تو !!!!! حج کے رسوم ميں سے ايک شيطان کو پتھر مارنا بھی بتاياجاتا ہے جبکہ تاريخ کا مطالعہ کر نے سے پتہ چلتا ہے ابرا ہہ کے لشکر نے جب کعبہ پر لشکر کشی کرئی تو قريش کے تين افراد نے اپنی قوم سے غداری کرئی تھی جنکو قريش نے قتل کر ديا تھا يہ ا ن تينوں کی قبرئيں ہيں ، جنپرآتے جاتے لوگ تھوک کر اور پتھر مار کرجاتے تھے آہستہ آہستہ يہ وہاں کا رواج بن گيا اور پھر يہ رواج حج کا حصہ بن گيا !!!!!! آپ کچھ سمجھ سکے ؟ اب آپ خود ہی فيصلہ کريں کہ ہمارےان عمروں اور حج سے اس امت کوعملا کيا حاصل ہے؟ جبکہ قرآن اعمال کے نتائج سے غرض رکھتا ہے جو قوم اپنی اخلاقی سماجی انفرادی واجتماعی زندگی ميں ديواليہ ہو چکی ہو، اسکا حج و عمرہ کيا معني رکھتا ہے خرابی حج ميں نہيں ہے مسلمانوں کے اندر ہے، جھوٹ دھوکہ، مکر وفريب، دغا بازی،عياری، امانتوں ميں خيانت ،انفرادی حيثيت سے ليکرليڈر شپ تک سب خائن ہيں غرض کہ قرآن نے گذشتہ اقوام پر جو فر د جرم عائد کی ہے اسکو ديکھکر اپنا محاسبہ کريں اور )َ پھر خود ہی فيصلہ کرئيں، بقول قرآن: بََلْ اَلإِنسَانُ عََلَى نََفْسِهِ بََصِيرَۃٌ )َ 21 ( وََلَوْ أََلْقَى مََعَاذَِيرَہُ )َ 21 القيامۃ، تَرجمۃ: بَلکہ اَنسان اَپنے آَپ پَر خَود گَواہ ہَے، اَگرچہ بَہانے،عذر وَ مَعذرت کَرتا رَہے جبتک اس فر د جرم سے خلاصی نہيں ہو گی ،حج اس امت کو کوئی فايدہ نہيں پہنچا سکتا اگر مسلمانوں نے اپنی حالت کو سدھار کر حج کرنا شروع کرا تو اس آئي ن کہن ميں اتنی قوت ہے کہ مسلمانوں کو انکا کھويا ہوا مقام واپس دلا دے بصور ت ديگر حج و عمرے ہوتے رہيں گے، نماز روزے ہوتے رہيں گے، قربانياں ہوتی رہيں گی مگر يہ امت ذلت کے عذاب ميں گرفتار رہے گی ميرے کہنے کا مطلب يہ نہيں کہ ا س وجہ سے آپ حج عمرہ نہ کرئيں، ميں کہنا يہ چاہتا ہوں کہ حج زندگی ميں ايکدفعہ ضرور کريں ليکن" نفل عبادت" کے نام پر بار بار حج اور عمرے پر عمرے نہيں کرئيں حضو ر اکرمؐ نے بھی زندگی ميں ايک ہی حج کرا تھا اسکے بجاۓ آس پاس ديکھيں کتنے ضرورت مند تڑپ رہے ہيں، سيلابوں ، بيماريوں، سماجی نہ انصافيوں اور غربت نے انسانوں کی کمر توڑ دی ہے، کتنی بچياں پيسہ نہ ہونے کے باعث شادی سے محروم ہيں اور 6 يہ قوم حج عمرے اور قربانئياں کر کر کے خوش فہميوں کا شکار ہے، غور کرئيں ا ن آيا ت قرآنی ميں کہيں اللہ ہم کو ہی تو وارنگ نہيں دے رہا ہے قُلْ هََلْ نَُنَبِّئُكُمْ بَِالأَخْسَرِينَ أََعْمَالاً )َ 277 ( اَلَّذِينَََ ضَلَّ سََعْيُھُمْ فَِي اَلْحَيَاۃِ اَلدُّنْيَا وََهُمْ يََحْسَبُونَ أََنَّھُمْ يَُحْسِنُونَ صَُنْعاً )َ 271 ( أَُولَئِكََ اَلَّذِينََ كََفَرُوا بَِآيَاتِ رََبِّھِمَْ وَلِقَائِهِ فََحَبِطَتْ أََعْمَالُھُمْ فََلا نَُقِيمُ لََھُمْ يََوْمَ اَلْقِيََامَةِ وََزْناً )َ 271 ( اَلکہف، تَرجمہ: تَو کَہہ کَہ ہَم بَتائيں تَمَ کوکہ کَن کَہ اَعمال ضَائع ہََو گَۓ؟ وَہ لَوگ کَہ جَنکی کَوششيں بَھٹکتی رَہيں دَنيا کَی زَندگی مَيں اَورَ وہ يَہ سَمجھتے رَہے کَہ خَوب اَچھے اَچھے کَام کَر رَہے ہَيں ََ يَہ وَہی لَوگ ہَيں دَراصل جَو مَنکرَ ہوۓ اَپنے رَب کَی آَيتوں اَور اََُس سَے مَلنے سَے سَو پَھر بَرباد ہَو گَۓ اََِنکے سَب اَعمال)يہ تَو دَنياَ ميں سَزا مَلی( اَور قَيامت کَے دَن اََِنکے اَعمال کَچھ وَزن نَہيں رَکھيں گَے دوستوں قرآن تو آئينہ ہے ، ہر ايک اپنا چہرہ ديکھ لے ،خيال رہے اس آيت ميں اللہ نے "الَّ ذينَ"کہا ہے يعنی "لوگ" کافر يا مشرک نہيں کہا ہے ! ميرے کچھ دوست "حج بدل" کے متعلق معلوم کرنا چاہتے ہيں سچ يہ ہيکہ دي ن اسلا م کو مذہ ب اسلام ميں بدلنے کے باعث حج کا اصل مقصد بھی اس قوم کی نطرون سے اوجھل ہو چکا ہے، باقی جو کچھ بچتا ہے وہ جہالت اور اس قوم کے دولتمندوں کے چونچلے ہيں آج سے 0221 سال پہلے کے زمانے کا تصور ايک لمحے کو ذہن ميں لائيں، عرب کا شديد موسم ،ريت کا سمندر اور پھر اونٹ گھوڑوں پر سفر، صرف مدينۃ يا طائف سے مکہ تک کا سفر کئی دن ميں شد يد تھکان کے ساتھ ہوا کرتا تھا پھر ہوا يہ کہ خلافت ملوکيت ميں بدل گئی، بادشاہوں نے تلواراور طاقت کے بل بوتے پر،بھائی نے بھائی کی اور بيٹے نے باپ کی گردن مارمار کر کرسی حاصل کرنا شروع کردی،) مسلمانوں کی تاريخ ا ن کارناموں سے بھری ہوئی ہے( جسکی حفاظت وہ اپنی جان سے بھی بڑھکر کرتے تھے آ ن نام نہاد مسلمان بادشاہوں کيلے اسلام کا يہ فرض پورا کرنے ميں دو وجوہات سے جان نکلتی تھی چوں کہ انہوں نے حکومت خود ظلم زبردستی سے حاصل کی ہوتی تھی اسلئےحج کے سفر کے باعث ا نکو حکومت چھنے کا ڈر لگا رہتا تھا دارلحکومت دمشق، بغداد يا پھرمغلوں کا دھلی سے حج کا سفراس زمانے ميں مہينوں ميں طے ہوتا تھا اور اس دوران بادشاہ کا مہينوں کيلے دارلحکومت سے دور جانے کا مطلب حکومت سے ہاتھ دھونا تھا دوسری وجہ امراء کی آرام طلبی اور عيش پسندی تھی جو کہ حج کے سفر کی تکليفوں سے بچنا چاہتے تھے ا س پس منظرميں دين فروش و نام نہاد علماء اور بادشاہوں کی ملی بھگت سے اسلام ميں" حج بدل" کا اضافہ کرا گيا کہ بادشاہ اور امراء اپنے خرچے پر 011 021 آدمی حج پر بھيج کراپنے طور پر نام نہاد ثواب حاصل کر ليتے تھے حضو ر اکرمؐ نے – اگرچہ فتح مکہ کے بعد ايک ہی حج کرا مگر کبھی بھی اپنی طرف سے بدل حج پر کسی کو نہيں بھيجا ميرے نذديک مسلمانوں کا" بدل حج" ، عيسائيوں کے "کفارے" کے عقيدے کا عکس ہے قرآن تواس معاملے ميں دو ٹوک صاف صاف بات کہتا ہے : أَلاَّ تََزِرُ وََازِرَۃٌ وَِزْرَ أَُخْرَى )َ 72 ( وََأَنَْ لَيْسَ لَِلإِنسَانِ إَِلاَّ مََا سََعَى )َ 76 (النجم ،َ تَرجمہ :َ کَََوئی بَوجھ اَٹھانے وَالا کَسی دَوسرے کَا بَوجھ نَہيںَ اٹھا سَکتا اَور يَہ کَہ آَدمی کَيلے اََُسکی اَپنی کَوشش کَے سَواء کَچھ نَہيں اللہ نے کہ ديا ہے : وَقَدْ خََابَ مََنْ حََمَلَ ظَُلْماً )َ 222 ( طَ ہ، تَرجمۃ: اَور بَرباد ہَوا وَہ جَس نَےَ بوجھ اََُٹھايا ظَلم کَا اب رہا ماں باپ رشتہ دارؤں کو حج پر بھيجنا تو بھائی حج تو فرض ہی صرف پيسے والے پر ہے لہذا اگر ان لوگوں کے پاس پيسہ ہے توحج فرض ہو گيا، ضرور جائيں اور اگر پيسہ نہيں ہے 7 تواللہ نے ا نپر حج فرض قرار ہی نہين ديا لہذا ا نکا بھيجا جانا اميروں کے چونچلے نہيں تو پھر کيا ہے؟ حج کے بابت يہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج کرنے سے آدمی گناہوں سے ايسا پاک ہو جاتا ہے کہ جيسے ماں کے پيٹ سے بچہ پيدا ہوتا ہے اے انسانوں ! يہ عہ د ملوکيت کے وہ زہريلے انجيکشن ہيں جو ا س" شمشي ر برہينہ" قوم کو" زنخا" بنانے کيلے تمہارے نام نہاد خليفاؤں اور ا نکے پٹھو، دين فروش علماؤں نے ملکرايجاد کرۓ تھے قرآن پر ايمان کا تقاضہ ہے کہ ايسی باتوں کا انکار کرا جاۓ قرآن تو کہتا ہيکہ : كُلُّ اَمْرِئٍ بَِمَا كََسَبَ رََهِينٌ )َ 02 ( اَلطورَ ،ہر آَدمی اَپنی کَمائی مَيں پَھنسا ہَوا ہَے۔۔۔۔۔ اور سنيں کہ کيا کہتا ہے اس بارے ميں ہمارا رب، كُلُّ نََفْسٍ بَِمَا كََسَبَتَْ رَهِينَةٌ )َ 72 ( اَلمدثر، ہَر اَيک نَفس، اَپنے کَيے مَيں پَھنسا ہَوا ہَے اگر ايسا واقعی سہی ہے تو پھر بيچارہ چ ل ی اورنيوزيلينڈ کا مسلمان مکہ سے د وری کے باعث خسارے ميں رہا اور مکہ کا شيطان عرب ہر سال حج کر کر کے گناہ بخشواتا رہا ! يہ تو صاف صاف ناانصافی ہوئی جو کہ کوئی نيک انسان بھی کرنا گوارہ نہيں کرے گا تو اللہ جيسا منصف کيسے کر سکتا ہے قرآن تو اس متعلق کچھ اور ہی کہتا ہيکہ: وَكُلَّ إَِنسَانٍ أََلْزَمْنَاہُ طََائِرَہُ فَِي عَُنُقِهَِ وَنُخْرِجُ لََهُ يََوْمَ اَلْقِيَامَةِ كَِتَاباً يََلْقَاہُ مََنشُوراً )َ 27 ( اَقْرَأْ كَِتَابَكَ كََفَى بَِنَفْسِكَ اَلْيَوْمَ عََلَيْكَ حََسِيباًَ )ََ 21َ ( بَنیَ اسرايل، تَرجمۃ، اَور ہَم نَے ہَر اَنسان کَے اَعمال نَامے کَوبہ صَورت کََِتاب اَسکے گَلے مَيں لَٹکا دَياَ ہے، اَور قَيامت کَے رَوز وَہ کَتاب اَسے نَکال کَر دَکھائيں گَے جَسے وَہ دَيکھے گَا کَھلا ہَوا َ کَہاَ جاۓ گَا اَپنی کَتاب خَود پَڑه لَے، تَو آَج آَپ ہَی اَپنا حَساب کَرنے کَو کَافی ہَے قرآن بھرا ہوا ہے ايسی آيتوں سے، کوئي دل کی آنکھيں کھول کر پڑھنے والا ہو فَإِنَّھَا لَا تََعْمَى اَلأَبْصَارُ وََلَكِنْ تََعْمَىَ الْقُلُوبُ اَلَّتِي فَِي اَلصُّدُورِ )َ 19 (الحج، تَرجمہ: سَو آَنکھيں تَو اَندهی نَہيں ہَو جَاتئيں پَر دَل اَندهے ہَوَ جاتے ہَيں اللہ نے صاف صاف کہہ ديا ہيکہ گناہ معاف ہوتے ہيں مگر سچی توبہ اور نيکيوں سے، إَِنَّ اَلْحَسَنَاتِ يَُذْهِبْنََ اَلسَّيِّئَاتِ )َ 221 ( هَود، تََرجمۃ بََيشک نَيکياں دَور کَرتی ہَيں بَدئياں قربانی : اس موضوع پر قلم ا ٹھاتے ہوۓ ميرے سامنے قرآن کی يہ آيت ہے: فَاصْدَعْ بَِمَا تَُؤْمَرَُ 61 ( إَِنَّا كََفَيْنَاكَ اَلْمُسْتَھْزِئِينَ )َ 61 ( اَلحجر، تَرجمۃ :َ سََو تَو کَھول کَھول کَر سَنا دَے جَو تَجھکواللَّ کَیَ ( طرف سَے حَکم ہَوا ہَے ہََم کَافی ہَيں تَيری طَرف سَے تَيرا مَذاق اَڑانے وَالوں کَو ا ن جيسی آيات کے سہارے ميں اپنے راستے پر چل رہا ہوں، اپنے رب کے بھروسے پر آپ قاري سے اتنی درخواست ہے کہ پڑھ ضرور لئيں، ماننا يا نہ ماننا الگ معاملہ ہے إِنَّمَا يََسْتَجَِيبُ اَلَّذِينَ يََسْمَعُونََ 79 ( اَلانعام، تَرجمۃ: بََيشک حَق کَو قَبول وَہی کَرتے ہَيں جَو سَنتے بَھی ہَيں ( سب سے پہلے تو يہ متعين کر ليتے ہيں کہ معاملہ ہے کيا ؟ اولا : بقرعيد کے موقع پر ساری دنيا ميں مسلمان گلی گلی جانور ذبح کرتے ہيں اور اسکو قربانی کا نام ديتے ہيں ثاني ا : حج کے اجتماع کے موقع پر حاجی مکہ ميں جانور ذبح کرتے ہيں، اسکو بھی مسلمان قربانی ہی کہتے ہيں سب سے پہلے يہ جان ليں کہ قرآن نے ا ن جانوروں کے ذبح کرنے کيلے"قربانی" کا لفظ کہيں استعمال نہيں کرا ہے قرآن ميں جانوروں کے ذبح کرنےکا ذکر حج کے اجتماع سے متعالقہ آيات ميں آيا ہے قران مين ذبح سے متعلقہ آيات ميں کچھ اصطلاحات آئی ہيں، پہلے ا نکا مطلب سمجھ ليں 8 "ھدی" يہ جمع ہے ھد يۃ کی، اردو ميں مطلب ہوا"تحفۃ" سورۃ نمل ميں ہے: بََلْ أََنْتُمْ بَِھَدِيَّتِكُمَْ تَفْرَحُونَ )َ 79 (ترجمۃ: بَلکہ تَم ہَی اَپنے تَحفۃ سَے خَوش رَہو "نسک" اصطلاحا اسکے معنی ہيں "خالص چاندی کے ٹکڑے" اسکے اخلاص کی بناء پر اس سے"ذبح" اور"عبادت" کا مفہوم بھی ليا جاتا ہے ، کيوں کہ يہ بھی خالص ا اللہ ہی کيلے ہيں "شعائراللہ"ہر وہ عمل يا چيزجو کسی کی پہچان کراسکے شعائر کہلاتی ہے، جنگ ميں جو نشان دوست دشمن کی پہچان کيلے استعمال کرا جاتا ہے اسکو بھی عربی ميں شعائر کہتے ہيں اب ذ بح سے متعلقۃ قرآنی آيت کا مطالعہ کرئيں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اللہ نے ذ بح کے مقام کو متعين کر ديا ہے يا غير متعين چھوڑ ديا ہے کہ دنيا بھر ميں مسلمان گلی کوچوں ميں قربانی کرا کرئيں 0: وََأَذِّنْ فَِي اَلنَّاسِ بَِالْحَجِّ يََأْتُوكَ رَِجَالاً وََعَلَى كَُلِّ ضََامِرٍ يََأْتِينَ مَِنْ كَُلِّ فََجٍّ عََمِيقٍ )َ 00 ( لَِيَشْھَدُوا مََنَافِعََ # لَھُمْ وََيَذْكُرُوا اَسْمَ اَللََِّّ فَِي أََيَّامٍ مََعْلُومَاتٍ عََلَى مََا رََزَقَھُمْ مَِنْ بََھِيمَةِ اَلأَنْعَامِ فََكُلُوا مَِنْھَا وََأَطْعِمُوا اَلْبَائِسَ اَلْفَقِيرََ 02 ( اَلحج، تَرجمۃ: اَور لَوگوں مَيں حَج کَيلے اَعلان کَر دَوکہ تَمھاری طَرف اَور دَبلے اَونٹون پَرَ ( چلے آَئيں دَور کَی رَاہوں سَے، تَاکہ پَہنچيں اَپنے فَايدے کَی جَگہ پَراور پَڑهيں اَللَّ کَا نَام مَعلوم دَنوںَ ميں جَانوروں کَے ذَ بَح پَر اََب تَم خَود بَھی اَنميں سَے کَھاؤ اَور مَحتاج کَو بَھی کَھلاؤ اس آيت ميں اعلا ن حج کے سلسلے ميں فرما کہ جانوروں کو ذبح کرو ان ميں سے خود بھی کھاؤ اورحاجت مندوں کو بھی کھلاؤ 5 : ا ن جانوروں کے متعلق پھر فرمايا: لَكُمْ فَِيھَا مََنَافِعُ إَِلََى أََجَلٍ مَُسَمًّى ثَُمَّ مََحِلُّھَا إَِلَى اَلْبَيْتِ اَلْعَتِيقََِ # 77 ( اَلحج، تَرجمۃ: اََِن جَانوروں مَيں تَمھارےلۓ اَيک مَد تَِ مَعينہ تَک فَايدہ اَٹھانا ہَے، اَسکے بَعدَ ( اَُنکے ذَ بَح کَرنے کَی جَگہ خَانہ کَعبۃ کَے قَريب ہَے اس آيت نے واضح کيا کہ يہ عام جانور ہيں جن پر سواری کر کے اور بوجھ ڈھو کر حج کيلے آيا جاتا ہے اور پھر حج کے موقع پر مکہ ميں انکو ذ بح کرا جاتا ہے 3 : پھر فرمايا کہ وَالْبُدْنَ جََعَلْنَاهَا لََكُمْ مَِنْ شََعَائِرِ اَللََِّّ لََكُمْ فَِيھَا خََيْرٌ فََاذْكُرُوا اَسْمَ اَللََِّّ عََلَيْھَا صََوَافَّ فََإَِذَاَ # وَجَبَتْ جَُنُوبَُھَا فََكُلُوا مَِنْھَا وََأَطْعِمُوا اَلْقَانِعَ وََالْمُعْتَرَّ كََذَلِكَ سََخَّرْنَاهَا لََكُمْ لََعَلَّكُمْ تََشْكُرُونَ )َ 79 ( اَلحج، تَرجمۃَ : اَور قَربانی کَے اَونٹوں کَو بَھی ہَم نَے تَمھارے لَۓ شَعائر مَقرر کَرا ہَے سَو تَم اَن پَر اَللَّ کَا نَام لَياَ کرواور جَب وَہ کَسی پَہلو گَر پَڑئيں تَو خَود بَھی کَھاؤ اَور سَوال کَرنے اَور نَہ کَرنےوالے مَحتاج کَوَ بھی کَھلاؤ َ اَسطرح ہَم نَے اَنکو تَمہارے زَيرَِ فَرمان کَر دَيا ہَے تَاکہ تَم شَکر کَرو اس آيت ميں بھی وضاحت کر دی کہ ان جانوروں کو ذ بح کر کے خود بھی کھاؤاور محتاجوں کو بھی کھلاؤ 2 : وََأَتِمُّوا اَلْحَجَّ وََالْعُمْرَۃَ لَِِلَِّّ فََإِنْ أَُحْصِرْتُمْ فََمَا اَسْتَيْسَرَ مَِنْ اَلْھَدْيِ وََلا تََحْلِقُوا رَُءُوسَكُمْ حََتَّى يََبْلُغَ اَلْھَدْيَُ # مَحِلَّهُ فََمَنْ كََانَ مَِنْكُمْ مََرِيضاً أََوْ بَِهِ أََذًى مَِنْ رََأْسِهِ فََفِدْيَةٌ مَِنْ صَِيَامٍ أََوْ صََدَقَةٍ أََوْ نَُسُكٍ فََإِذَا أَََمِنتُمْ فََمَنْ تََمَتَّعََ بِالْعُمْرَۃِ إَِلَى اَلْحَجِّ فََمَا اَسْتَيْسَرَ مَِنْ اَلْھَدْيِ فََمَنْ لََمْ يََجِدْ فََصِيَامُ ثََلاثَةِ أََيَّامٍ فَِي اَلْحَجِّ وََسََبْعَةٍ إَِذَا رََجَعْتُمْ تَِلْكََ عَشَرَۃٌ كََامِلَةٌ ذََلِكَ لَِمَنْ لََمْ يََكُنْ أََهْلُهُ حََاضِرِي اَلْمَسْجِدَِ اَلْحَرَامِ )َ 269 ( اَلبقرۃ، تَرجمۃ: اَور حَج وَ عَمرہ کَوَ اللَّ کَيلے پَورا کَرو، پَھر اَگر تَم رَوک دَۓ جَاؤ)کسی بَھی وَجہ سَے( تَو قَربانی کَا جَو بَھی جَانورَ ميسر آَۓ )َمکہ( بَھيج دَيا کَرو اَور حَجامت نَہ کَرو اَپنے سَروں کَی جَبتک قَربانی کَا جَانور اَپنےَ ٹھکانے )َيعنی حَرم مَيں( پَہنچ نَہ جَاۓ َ پَھر جَو کَوئی تَم مَيں سَے بَيمار ہَويا اَسکے سَرميں تَکليفَ ہوتو اَسکا فَد يَہ ہَيں رَوزے، صَدقۃ يَا نَسک َ پَھر جَب اَيسا ہَو کَہ تَم حَج اَورعمرہ مَلا کَر کَرو تَو جَوَ کچھ قَربانی مَيسر ہَو ذَ بَح کَرو َ پَھر جَس شَخصکَو قَربانی کَا جَانور مَيسر نَہ ہَوتو اَسکے لَيے تَينَ دن کَے رَوزے حَج کَے دََ نَوں مَيں اَور سَات حَج سَے وَآپس آَکر ،َ يَہ دَس رَوزے پَورے ہَوۓ يَہَ حکم اَسکے لَيے ہَے جَسکے گَھر وَالے مَسجد حَرام کَے پَاس نَہ رَہتے ہَوں 9 2 : هَدْياً بََالِغََ اَلْكَعْبَةَِ )َ 61 ( اَلمايدہ، تَرجمۃ :َ اَور يَہ قَربانی کَعبۃ پَہنچائی جَاۓ َ # آپ ا ن آيات پر غور کرئيں تو واضح ہو جاۓ گا کہ اولا : حج اور عمرہ ميں عام حالات ميں قربانی کا حکم نہيں، ثانيا : ان آيات ميں صرف قربانی کا حکم نہيں ہے، ثا لثا :حاجی محصور ہو جانے کی صورت ميں اپنی ھدی کو کعبۃ ميں بھيج دے، رابعا : حال ت احرام ميں کسی تکليف کے باعث حجامت بنوانا پڑ جاۓ تو صد قہ يا روزے کا حکم ہے ،خامس ا : حج اور عمرہ ايک ساتھ کر نے کی صورت ميں ھدی کا حکم ہے، بشرطيکہ وہ ميسر ہو، ورنہ پھر روزے رکھ لے اب ميں آخر ميں ايک اور آيت سامنے لانا چاہوں گا جس سے مکمل تصد يق ہو جاۓ گی کہ قربانی کا مقام صرف اور صرف خانہ کعبۃ ہے هُمْ اَلَّذِينَ كََفَرُوا وََصَدُّوكُمْ عََنْ اَلْمَسْجِدِ اَلْحَرَامِ وََالْھَدْيََ مَعْكُوفاً أََنَْ يََبْلُغَ مََحِلَّهُ )َ 01 (الحجرات َ تَرجمۃ :َ يَہ قَريشَِ مَکہ وَہ لَوگ ہَيں جَنہوں نَے کَفر کَرا اَور تَمَ کو مَسجدِ حَرام جَانے سَے رَوکا اَور قَربانی کَے جَانوروں کَوروک دَ يَا کَہ وَہ اَپنی قَربانی کَی جَگہَ حلال ہَو نَے تَک نَہ پَہنچ سَکے سنہ 6 ھجری ميں حضوراکرمؐ مدينۃ سے مکہ عمرے کيلے روانہ ہوۓ، ليکن قري ش مکہ نے حضورؐ کو مکہ ميں داخل ہونے سے روک ديا تھا، يہ حد يبيۃ کا وہ تاريخی مقام ہے جہاں تاريخی" صلح حديبيہ" ہوا تھا جسے قرآن نے فت ح مبين قرار ديا اس آيت ميں اللہ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ قري ش مکہ نےقربانی کے جانوروں کوروک ديا کہ وہ جانور اپنے ذ بح ہو نے کے مقام تک نہيں پہنچ پاۓ ان آيا ت قرآنی کو سامنے رکھيں پھر سوچيں کہ کيا يہ حقيقت سمجھنےميں اب بھی کوئی دقت باقی ہے کہ قربانی حج کے موقع پر مکہ ہی ميں ہو سکتی ہے اگر ا ن آيات کے سامنے آنے کے بعد بھی کوئی يہ سمجھتا ہيکہ قربانی سب دنيا بھرکے مسلمانوں کوپھر بھی کر نی ہے تو ميں يہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ کسی کو ھدايت د ينا کسی انسان کے بس ميں نہيں کچھ لوگ سورۃ کوثر کی آيت فَصَلِّ لَِرَبِّكَ وََانْحَرْ )َ 0( کوگلی کوچوں ميں قربانی کيلے بطور دليل پيش کرتے ہيں، بہتر ہوگا کہ مختصر ا اسکو بھی سمجھا جاۓ " نحر" کا لفظ قرآن ميں اس ہی آيت ميں استعمال ہوا ہے جسکے مختلف معنی متعين کرۓ جاتے ہيں دائيں ہاتھ کو بائيں ہاتھ کی کلائی پر رکھکرپھر دونوں ہاتھوں کو سينے پر رکھکر نماز پڑھنے کونحر کہا جاتا ہے، يہ حضرت عل ی کا قول ہے اب ن عبا س گردن قبلۃ کی طرف کرنا بتاتے ہيں جناب باقرؒ اس سے مراد رفع يدين بتاتے ہيں ان سبکے باوجود عام فہم عربی ميں نحر کا مفہوم عموما قربانی ہی ہے ليکن صرف اونٹ کی قربانی کے ليےمختص ہے مدينۃ ہجرت کے بعد مسلمانوں کويہود جيسے کھلے اور منافقين جيسےڈھکے دشمنوں سے معاملہ درپيش تھا يہود کی شريعت ميں اونٹ کھانا حرام ہے يہ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمان شديد مصائب کا شکار تھے، ہر طرف مايوسی تھی باہر سے مکہ کے کا فر تو اندر سے يہود و منافقين مسلمانوں کو مٹانے کے درپے تھے يہ خيال ابھرنے لگا تھا کہ مسلمان مکہ کے کافروں سے مقابلے کی خاطر يہود سے مفاہمت کر ليں گے اللہ نے اس آيت کو نازل کر کے اس شبہ کا ازالہ کرديا کہ" اونٹ ذ بح کر" يہ ايسے ہی ہے جيسے آج ہندوستان کے شکستہ و مغلوب مسلمانوں کو غيبی حکم ہو جائے کہ "گاۓ کھلے عام ذ بح کرو" خدارا سوچيں کہ اس آيت سے دنيا بھر ميں، گلی کوچوں ميں مسلمانوں کا قربانی کرنا کيسے ثابت ہوا! ميں جانتا ہوں کہ ضدی اور ہٹ دھرم اب بھی نہيں مانيں گے لہذا ايسے لوگوں سےگزارش ہيکہ اس ہی آيت پر مذيد غور کريں اس آيت پر معمولی سے تدبر سے معلوم ہوا کہ" فَصَلِّ لَِرَبِّكََ وَانْحَرْ )َ 0(" ميں 'فصل' يعنی 'نماز پڑھ' امر کا صيغہ ہے، جسکا مطلب ہوا کہ نماز فرض ہے، اس ہی طرح 'وانحر' بھی صيغ ہ امر ہے يعنی فصل اور وانحر دونوں فرض ہو گيے کيوں کہ حکم اس 10 آيت ميں دونوں کيلے ايک ساتھ ہے اب سمجھنے کی بات يہ ہيکہ نماز کے فرض ہونے پر تو سارے مسلمان متف ق ہيں ليکن قربانی کسی کے نزديک بھی فرض نہيں ! زيادہ سے زيادہ سنت کہتے ہيں وہ بھی موکدہ نہيں عجيب ہيرا پھيری نہيں ہے يہ؟ آيت کے ايک ٹکڑے کے متعا ب ق، نماز فر ض عين، تاري ک صلاۃ دائرہ اسلام سے خارج ليکن اس ہی آيت کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ يہ سلوک کہ کوئی بھی اسکو فرض قرار نہيں دے رہا اور سنيں، اگر'وانحر'سے مراد قربانی لے لی جاۓ تو عربی زبان ميں نحر صرف اونٹ کی قربانی کيلے مخصوص ہے، تو پھر گاۓ بھيڑ بکرے کی قربانی کيسے ہو سکتی ہے؟ اب ايک قدم اور آگے بڑھاتا ہوں ان لوگوں کو سمجھانے کيلے جو اس ہی آيت يعنی فَصَلِّ لَِرَبِّكَ وََانْحَرْ )َ 0( سے گليوں م ح ل وں ميں قربانی کرنے پر بضد ہيں اس آيت ہی کے بموجب نماز پڑھنا فرض ہے اب ظاہر ہے کہ نماز کی ادائيگی انہی شرائط کے ساتھ ہو گی جو قرآن ميں بتائی گئی ہيں، جيسے نماز کا وقت ہونا، پاک صاف با وضوء ہونا اور سب سے بڑھکر قبلۃ رخ ہونا، پھر نماز کے فرض کی ادئيگی ہو گی تو اللہ کے بندوں اتنا تو سوچو کہ نماز کيلے جو قرآن قبلہ رخ ہو نے کو کہہ رہا ہے وہی قرآن تو 'وانحر' کيلے کعبہ کے مقام کا تعين بھی کر رہا ہے ، جب نماز بغير قبلہ رخ ہوۓ نہيں ہو سکتی تو قربانی کعبہ پہنچے بغير کيسے ہو گی ؟ أَفَتُؤْمِنُونَ بَِبَعْضِاَلْكِتَابِ وََتَكْفُرُونَ بَِبَعْضٍ)َ 21 ( اَلبقرۃ تَرجمۃ :َ تَو کَيا تَم اَللَّ کَیَ کتاب کَی بَعضبَاتوں کَو مَانتے ہَو اَور بَعضکَا اَنکار کَرتے ہَو ؟ زرا سوچو، کيا يہ آيت ہم سے ہی تو شکوہ نہيں کر رہی ؟ ايک عام آدمی کے ذہن ميں اب يہ سوال اٹھے گا کہ اتني واضح آيات کے باوجود مسلمان گلی کوچوں ميں قربانی کيوں کر تے ہيں؟ اسکی وجہ وہی ہے کہ قرآن کو چھوڑ کر ضعيف سے ضعيف روايت کومان لينا، قرآن جو کہتا ہےکہتا رہے، عمل تومسلمانوں نے روائيتوں اور قصے کہانيوں پر کرنا ہے ، قرآن تو صرف قسميں کھانے اور اسکے نيچے سے دلہنيں گزارنے کيلے رہ گيا ہے اب ميں آپکو مسلمانوں کی ايسی ہی کچھ کہانياں سناتا ہوں سن ت ابراہيمی: قربانی کو اکثر 'سن ت ابراہيمی' بھی کہا جاتا ہے سچائی يہ ہيکہ قرآن ميں ايسا کچھ بھی نہيں ہے طوالت کے با عث آيات نہيں لکھ رہا ہوں، جوصاحبان دلچسپی رکھتے ہوں وہ سورۃ اَل ص فت، آَيات 272َ تَا 270َ پَڑھ ليں، حقيقت کھل جاۓ گی قرآن صرف اتنا بتاتا ہيکہ حضرت ابراہي م نے خواب مين ديکھا کہ اپنے بيٹے کو ذ بح کر رہے ہيں آ پ اس خواب کو حقيقی جانتے ہوۓ بيٹے کو قربان کرنے کو تيار ہو جاتے ہيں، جب بيٹے کو ذ بح کر نے کو لٹا ديتے ہيں تو اللہ آواز ديتا ہيکہ اے ابراہي م ت و نے اپنا خواب سچا کر دکھايا پورے قرآن ميں يہ کہيں نہيں لکھا ہيکہ اللہ نے کوئی مينڈھا يا جانور جنت سے بھيجا تھا يا حضرت ابراہي م نے کسی جانور کی قربانی دی تھی ! ايسا تو عہد نامہ قديم يعنی تورات ميں لکھا ھوا ہے، وہيں سے مسلمانوں نے کاپی پيسٹ اپنی کتابوں ميں کر ليا ہے، طوالت کے باعث صرف حوالہ ديتا ہوں: تورات،کتاب پيدائش، باب 55 ، آيات 0 تا 9 لہذا اگر کسی کو سن ت ابراہيمی پر ہی عمل کر نا ہے تو پھر تو وہی کرے جو حضرت ابراہي م نے کرا تھا يعنی لٹاۓ اپنے بيٹے کو ذ بح کرنے کو، اب اگر اللہ آواز ديکر کہے کہ چھوڑ دو بيٹے کو تو چھوڑ دے اور اگر آواز نہ آۓ توذ بح کرۓ، يہ ہوئی سن ت ابراہيمی ! بيٹے کی جگہ بيل بکرے چوپاۓ ذ بح کرنا پھر' سن ت ابراہيمی' کہنا کونسی لوجک ہے ؟ ذ ب ح عظيم : سورۃ الصٰفٰت کی 011 ويں آيت ميں اللہ نے "ذ ب ح عظيم" کہا ہے اس ذ بح عظيم کو مسلمان 'مينڈھا،بکرا' بنا کر، بلند و عظيم حقيقتوں کو پستی پر لے آتا ہے حضرت ابراہي م مل ک 11 شام کی سرسبز وادئيوں کے حکمران، پہلوٹھا بيٹا حضرت اسماعي ل با پ کے بعد ولی عہد حضرت ابراہي م اپنےخواب کے متعابق بيٹے کو ذ بح کرتے ہيں ، چھری گلے کو آ لگتی ہے کہ اللہ انہيں چھری سے بچا کربہت بڑی قربانی کيلے مخصوص کر ليتا ہے پھر اللہ حکم ديتا ہيکہ مکہ کے تپتے ميدانوں ميں انکو بساؤ اور ہمارا گھر بناؤ اور اپنے فرزن د کو اسکا پاسبان بناؤ اے اہ ل نظر غور تو کرو، سبزوشاداب وادئيوں کی جگہ تپتے صحرا، منص ب سرداری بھی ختم اور چند دنوں کيلے نہيں، زندگی بھر کيلے نہيں بلکہ پشتوں تک کی قربانی حضرت ابراہي م کے ايک بيٹے حضرت اسحا ق کی نسل يعنی بنی اسرايل کے حصہ ميں شوک ت سليمانی اور دارائ ے داؤدی اللہ نے دے دی اور دوسرے بيٹے حضرت اسماعي ل کی نسل کو آگ برستے صحراء ميں اپنے گھر کی رکھوالی سونپ دی کہيے کون سی قربانی بڑی ہے، ايک لمحے ميں شہہ رگ کا کٹ جانا يا صديوں پر مہيب قربانی يہ قربانی اس ليے لی گئی تھی کہ جب شا خ بنی اسرايل بے نم ہو جاۓ تو شا خ بنی اسماعي ل ميں وہ پھول کھلے، " پھو ل محمدیؐ "، کہ جس کی مہک سے سارا گلستاں قيامت تک مہکتا رہے يہ پھل ملنا تھا ا س ذ ب ح عظيم کا جسکے ليے حضرت اسماعي ل کو اللہ نے چنا تھا مسلمانوں نےا س قربانی کو اونٹ بيل بکرؤں کی قربانی بنا کر ذ ب ح عظيم کی عظمتوں کو خاک ميں ملا ديا آخر ميں پڑھنے والوں کا شکريہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نےاتنا وقت ديا ميں نے قرآن سےجو کچھ سمجھا ديانتداری اور اللہ کے سامنے جواب د ہی کے احساس کے ساتھ آپ تک پہنچايا ہے قرآن اندھی تقليد کے خلاف سراپا احتجاج ہے ، وہ بصيرت پہ زور ديتا ہے قران کہتا ہے: قَُلْ هََذِہَِ سَبِيلِي أََدْعُو إَِلَى اَللََِّّ عََلَى بََصِيرَۃٍ أََنَا وََمَنْ اَتَّبَعَنِي )َ 272 ( يَوسف، تَرجمۃ: کَہہ دَے)اے رَسولؐ( کَہ يَہَ ميری رَاہ ہَے کَہ بَلاتا ہَوں اَللَّ کَی طَرف سَمجھ بَوجھکر، مَيں بَھی اَورجو مَيرےراستے پَر مَيریَ اتباع کَرئيں وَہ بَھی لہذا ميرے بھائی بہنوں اپنے آقا کے راستے پر چلتے ہوۓ آپکو سمجھ بوجھ کی دعوت دے رہا ہوں جسکا دل چاہے مان لے جو چاہے انکار کر دے فَذَكِّرْ إَِنْ نََفَعَتْ اَلذِّكْرَى )َ 6( سََيَذَّكَّرُ مََنْ يََخْشَىَ 27 ( وََيَتَجَنَّبُھَا اَلأَشْقَى )َ 22 ( اَلاع لی، تَرجمۃ :َ سَو تَو سَمجھا دَے اَگر فَائدہ کَرۓ سَمجھانا، سَمجھَ ( جاۓ گَا جَسکو ڈَر ہَو گَا اَور جَو بَد نَصيب ہَََو گَا اَس سَے گَريز کَرے گَا اللہ نے ہرمسلمان پر ذ مہ داری دی ہے انسانوں کو ياد دہانی کرانے کی سو اپنی استطاعت کے متعا بق کوشش کرئی ہے وَمَا عَََلَى اَلَّذِينَ يََتَّقُونَ مَِنْ حَِسَابِھِمْ مَِنْ شََيْءٍ وََلَكِنْ ذَِكْرَى لََعَلَّھُمْ يََتَّقُونَ )َ 96 ( اَلانعام ،َ تَرجمۃ: اَورَ متَقيوں پَر نَہيں ہَے اَن لَوگوں کَے حَساب مَيں سَے کَوئی چَيز لَيکن اَنکے ذَمہ ہَے نَصيحت کَرنا،َ تاکہ وَہ تَقو ی اَختيار کَرئيں وسلام ، ناصرعلی 

islamvsislam@ hotmail.com 


مسلمان دنياء ميں ذليل کيوں ہيں؟
فَاقْصُصْ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (176) سورة الأعراف
انہيں انکی داستان سناؤ تاکہ يہ سوچيں! (کہ ہميں کيا ہو گيا)
يہ سوال کہ مسلمان اس قدر ذليل و خوار کيوں ہيں بڑی گہری توجہ کا محتاج اور غورو فکر کا مستحق ہے ۔ مسلمان اپنی تمام تر پستیوں کے باوجود اس سوال پر غور نہيں کرتے ہيں اور اگر کوئی انکا خيرخواہ اس متعلق کچھ کہے تو اسے ٹال ديتے ہيں، يا پھر جذبات کے سيلاب ميں بہہ جاتے ہيں۔ ميری درخواست ہے کہ جس جس تک يہ تحرير پہنجے وہ اسکو سرسری نگاہ سےنہيں ديکھے بلکہ اسپر غور و فکر کرے اور اگر اس سے متفق ہو تو اسے اپنے دوستوں اور رشتے داروں تک پہنچائے، تاکہ يہ سوال عام ہو اور مسلمان اپنی پستی کے اسباب ڈھونڈئيں۔
اس کرہ ارض پر تقريباً 56 مسلمان ممالک انڈونيشياء سے ليکر افريقاء ميں سنيگال تک پھيلے ہوے ہيں، اسکے علاوہ افريقاء کے دوسرے ممالک، چين، روس، امريکا، آسٹريليا، ہندوستان اور يورپ ميں بھی مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ مسلمانوں کی حالتِ زار سے کون واقف نہيں ہے ۔ 56 مسلمانوں کے نام نہاد ممالک کی حالت اور بےشرمی کا يہ حال ہے کہ چين، روس، امريکا، آسٹريليا اور يورپ کے مقابلے ميں نہ صرف انتہائی کمزور اور پست ہيں بلکہ ان ہی کے رحم و کرم اورامداد پر زندہ ہيں۔ غلہ، مشینری، دوائياں، ہتھيار سب کجھ اُن ہی سے ملتا ہے، حد تو يہ ہے کہ نقد روپيہ بھی ان ہی سے ملتا ہے تو ان کا گزارہ ہوتا ہے۔ زرا ان کی محتاجگی اور ذلت کا اندازہ تو کريں کہ يہ اپنی معدنيات تک نکالنے کيلۓ ان کے محتاج ہيں۔ عربوں کو تيل ڈھونڈ کر يورپ نے ہی ديا، اور پھر مسلمان اس قابل بھی نہيں کہ خود تيل نکال سکيں، اس کام کيليۓ بھی امريکہ اور يورپ کی ٹيکنالوجی کے ہی محتاج ہيں۔
اب پاکستان کو ديکھيں، ايک ايسا واحد مسلمان ملک جو کہ حاصل ہی اسلام کا نام ليکر کيا گيا تھا ، تمام تر ذلتوں، بيغيرتيوں، بيحيائيوں اور لعنتوں کا مسکن ہے، پوری دنياء ميں پاکستان کا نام ايک گالی بن گيا ہے۔ پاکستان کی آدھی آبادی غربت سے بھی نچلی سطح پر سسک رھی ہے، کتنے انسان ہيں اس ملک ميں کہ جن کو دن ميں ايک وقت کی روٹی تو چھوڑئيں، پينے کيلۓ صاف پانی تک نصيب نہيں ہے۔ انسان بے علاج مرتے ہيں، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے تڑپ تڑپ کر جان ديتے ہيں ليکن ان کے پاس دوائی خريدنے کيلۓ پيسے نہيں ہيں۔ کتنے بچے پيسہ نہ ہونے کے باعث تعليم سے محروم ہيں، کتنی جوان لڑکياں اس ليۓ گھروں ميں بيٹھی ہيں کہ انکے ماں باپ کے پاس اتنا پيسہ نہيں کہ ان کو گھر سے باعزت رخصت کرسکيں۔ افسوس کہ يہ حالتِ زار صرف پاکستان کی ہی نہيں بلکہ تمام عالمِ اسلام کی ہے بشمول ہندوستان، جہاں کروڑوں مسلمان آباد ہيں۔ حتی کہ يورپ اور امريکہ، جہاں مسلم اور غير مسلم ايک ہی جگہ رہتے ہيں وہاں بھی مسلمان اپنی حرکتوں اور اخلاقی ابتری کے باعث غير مسلموں سے نماياں طور پر الگ نطر آئيں گے۔
اب اس صورتِ حال کو مدِنطر رکھتے ہوۓ سوچيں کہ مسلمان دنياء بھر ميں پھیلے ہوۓ ہيں، ان سب کے جغرافيائی حالات، آب و ہواء، تہذيب و تمدن، زبانيں، رنگ، کھانے پينے، رہنے سہنے کے طور طريقے، مختصراً ہر چيز ان کی ايک دوسرے سے قطعاً مختلف ہيں۔ ليکن اگر زرا مذيد غور کريں تو معلوم ہو گا کہ ان سب ميں ايک چيز مشترک ہے! يہ سب مسلمان ہونے کے دعوے دار ہيں يعنی ان کا مذہب ايک ہے۔
ان حقايق کی روشنی ميں اگر کوئی اس نتيجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی ذلت، گمراہی، غربت، کمزوری اور ناداری کا سبب ان کا مذہب ہی ہے تو آپکے پا س اس کا کيا عقلی جواب ہے؟ ميں جانتا ہوں آپ کو غصہ آجاۓ گا، مرنے مارنے کو تيار ہو جائيں گے، کيوں کہ آپ اپنے مذہب کے متعلق اس طرح کی باتيں سنے کو تيار نہيں۔ ليکن آپ کے غصے سے معترض کے اعتراض کا معقول اور عقلی جواب تو نہيں مل سکے گا۔
سوال يہ ہے کہ مسلمان دنياء ميں جہاں بھی ہيں ذليل، پست، غير مسلموں کے دستِ نگر اور اخلاقی طور سے مکمل ديواليہ ہيں، اگر ان کا مشترکہ مذہب اسکی وجہ نہيں تو پھر اس کی اصل وجہ کيا ہے؟ ميں آپ سے التجاء کرتا ہوں کہ اس سوال کا جواب سوچئے، خود کی سمجھ ميں نہيں آتا تو اورؤں سے پوچھيں اور پھر ديکھيں کہ کيا آپ کو اس سوال کا عقلی اور اطمينان بخش جواب مل سکتا ہے۔
اس سوال کا جواب آپ کو اور کہيں سے نہيں ملے گا، اگر ملے گا تو ملّا سے ملے گا کہ "مسلمان اس ليۓ ذليل و خوار ہيں کہ اس نے اپنے مذہب کو چھوڑ ديا ہے۔ پھر اس کی تفصيل يہ بتائي جاۓ گی کہ مغرب کی تعليم نے مسلمانوں کو ان کے مذہب سے دور کر ديا ہے، يہ نماز نہيں پڑھتے {يہ عليحدھ بات ہے کہ جو نمازوں کے پابند ہيں وہ ہی نفاق ميں سب سے آگے ہيں} روزے نہيں رکھتے، داڑھی منڈواتے ہيں، انگريزوں کے جيسے کپڑے پہنتے ہيں، موسيقی سنتے اور ناچتے کودتے ہيں، مسلمان عورتيں پردہ نہيں کرتی، وغيرھ وغيرھ۔ ۔ ملّا نے تو جو کہنا تھا کہہ ديا، ليکن آپ زرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچيں کہ کيا واقعی مسلمانوں کی بربادی کی وجہ يہ ہی ہے جو کہ ملّا نے بتائی ہے!
غور طلب يہ ہے کہ دنياء ميں جو غير مسلم قوميں مسلمانوں سے آگے ہيں اور جن کے يہ ہر طرح سے محتاج ہيں وہ بھی يہ ہی سب کچھ کرتے ہيں، انہوں نے بھی اپنے مذہب کو چھوڑ ديا ہے، پھر وہ مسلمانوں سے آگے کيوں ہيں؟ مذيد يہ بھی سوچيں کہ مسلمانوں ميں بہت قليل تعداد نے اپنا مذہب چھوڑا ہوا ہے، مسلمانوں کی اکثيريت تو اپنے مروجہ مذہب پر سختی سے پابند ہے۔ وہ نمازوں کے پابند ہيں، روزے رکھتے ہيں،حج اور عمرے کرتے ہيں، قربانياں کرتے ہيں، مسلمان عورتيں پردہ بھی کرتی ہيں، مسلمان مرد داڑھياں رکھتے ہيں، مسلمانوں کی وضع قطع ان کا لباس سب کچھ ان کے مروجہ مذہب کے مطابق ہے۔ ليکن اس کے باوجود دونوں طرح کے مسلمانوں کی حالت ايک جيسی ہی ہے، مذہب کی پابندی نے ان کی حالت کو قطعی بہتر نہيں کرا ہے ۔ مذيد تدبر سے پتہ چلے گا کہ غريب مسلمان مذہب کے زيادہ پابند ہيں، ليکن مذہب کی پابندی ان کی حالت کو بلکل نہيں سنوارتی، وہ ساری زندگی غربت، ناداری، تکليفوں اور مصيبتوں کی حالت ميں گذارتے ہيں اور اس ہی کسمپرسی ميں مر جاتے ہيں۔ اس صورتِ حال سے يہ واضح ہے کہ يہ اس اعتراض کا سہی جواب نہيں ہو سکتا۔
اس صورتِ حال ميں ملّا دوسرا پينترا بدلتا ہے۔ اب وہ کہتا ہے کہ يہ اعتراض ہی غلط ہے۔" اگر مسلمانوں کے پاس دولت و قوت نہيں، وہ غريب اور مفلس ہيں، وہ دوسری قوموں سے پيچھے ہيں، بيشک ان کے پاس کھانے کو سہی طرح روٹی نہيں، پہنے کو کپڑا نہيں، رہنے کو مکان نہيں، بيمار کو دواء نہيں تو اس کا مطلب يہ نہيں کہ وہ ذليل اور پست ہيں۔ دنياء کی نظروں ميں چاہے وہ کچھ بھی ہوں، ليکن خدا کی نطروں ميں وہ ايسے نہيں ہيں۔ خدا کے نذدیک عزت اور ذلت کا معيار ہی دوسرا ہے۔ دنياء کا مال و دولت فتنہ ہے،{حالاں کہ سب سے زيادہ مال و دولت جمع کرنے کے چکر ميں يہ خود ہی رہتا ہے} جسقدر انسان اس سے دور رہے، اسی قدر وہ خدا کا مقرب ہوتا ہے۔ سب سے زيادہ خدا سے وہ قريب ہے جو دنياء کی نعمتوں اور آسائشوں سے دور رہے، دنياء کا مال و دولت فتنہ ہے، دنياء مردار ہے اور اسکا طالب کتا ہے۔ مسلمان کو دنياء ميں اس طرح رہنا چاہيے جس طرح قيدی قید خانے ميں۔ يہ دنياء کافروں کيلۓ اور آخرت مسلمانوں کيلۓ ہے ۔اگر مسلمانوں کو اس چند روزہ دنياء ميں تکليف بھی پہنچتی ہے تو کوئی بات نہيں، يہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے،جو ان تکليفوں کو صبر سے برداشت کر ليتا ہے، اس کے ليۓ آخرت ميں جنت ہے اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ رزق خدا نے اپنے ہاتھ ميں رکھا ہے، جس کی روزی چاہے تنگ کر دے، جسے چاہے خوشحال کر دے۔ وہ جسے چاہے عزت دے، جسے چاہے ذلت دے۔ انسان کو ہر حال ميں راضی برضاء رہنا چاہيۓ۔ جو شخص رز‍ق کی تنگی، غربت کی تکليف، محتاجی اور مصيبتوں کا شکوہ کرتا ہے، وہ خدا کے فيصلوں پر گويا اعتراض کرتا ہے۔ بندے کو کيا حق ہے کہ اپنے مالک کے فيصلوں پر نکتہ چينی کرے۔ جو کچھ اللہ کی طرف سے ملے مسلمان کو چاہيۓ کہ اسپر مطمعن رہے اور شکر کرۓ، يہ ہی اللہ کے نيک بندوں کی نشانی ہے۔"
يہ ہے وہ وعظ و نصيحت جسے ہر مسجد و منبر سے ملّا الاپتا ہے، ہر وعظ و تقرير ميں سناتا ہے۔ اور يہ ہی سب کچھ آپ بچپن سے سنتے چلے آرہے ہيں۔
ليکن سوال يہ ہے کہ کيا واقعی اسلام کی تعليم يہ ہی ہے؟ کيا قرآن ميں حقيقتاً يہ ہی سب کچھ لکھا ہوا ہے؟ کيا واقعتاً خدا کی یہ ہی منشاء ہے کہ مسلمان غريب، ذليل و محتاج رہيں؟ کيا دنياء کی ذلت اور خواری واقعی خدا کے مقرب بندؤں کی نشانی ہے؟
مسلمان جو چاہيں اپنے دل سے ان سوالات کا جواب دے دئيں، ليکن مسلمانوں کی اپنی مقدس کتاب، جس کو وہ خود خدا کی آخری کتاب مانتے ہيں اسميں تو خدا کا ايسا کوئی حکم، فرمان نہيں ہے۔ اس کتاب ميں تو يہ لکھا ہے کہ: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مِنْهُ (13)الجاثيہ ' زمين و آسمان ميں جو کچھ ہے اسے خدا نے تمھارے ليے مسخر کر ديا ہے کہ تم اس سے کام لو۔' وہ سچے اور پکے مومنين کی نشانی يہ بتاتا ہے کہ : لَهُمْ َمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)الانفال ' ان کے ليۓ حفاظت کا سامان اور عزت کی روزی ہے۔ ' وہ تو خدا کے مقرب بندوں کے متعلق بتاتا ہے کہ : لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ لا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ (64) يونس ' ان کيلۓ اس دنياء کی زندگی ميں بھی خوشخبری ہے اور آخرت کی زندگی ميں بھی۔ يہ خدا کا ‍قانون ہے جو کبھی بدل نہيں سکتا۔ ' وہ مومنوں کو دعا ہی يہ سکھاتا ہے کہ: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً (201) البقرہ اے ہمارے پروردگار ! ہميں اس دنياء ميں بھی خوشگوار زندگی عطا کر اور آخرت ميں بھی خوشگوار زندگی۔ قران واضح الفاظ ميں کہتا ہے کہ : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ (10) الزمر جو لوگ نيک عمل کرتے ہيں ان کی اس دنياء کی زندگی بہت خوشحال ہو جاتی ہے۔ ' وہ ايمان اور اعمال صالحہ کا لازمی نتيجہ اس دنياء کی حکومت اور سلطنت قرار ديتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ : وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (55) النور ' خدا نے وعدہ کر رکھا ہے کہ تم ميں سے جو لوگ ايمان لائيں اور اعمال صالح کرئيں گے وہ انہيں اس دنياء ميں حکومت عطا کرۓ گا جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کو حکومت عطا کی تھی۔ ' اس کے برعکس وہ واضح الفاظ ميں کہتا ہے کہ : وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى (124) طہ ' اور جو ميرے احکام سے رو گردانی کرۓ گا ميں اس کی روزی تنگ کر دؤں گا اور وہ قيامت کے دن اندھا اٹھايا جاۓ گا۔ '
آپ ان آيات سے يوں ہی نہ گزر جائيں، زرا غور کرئيں، اس ميں خدا صاف صاف الفاظ ميں کہہ رہا ہے کہ جو لوگ اس کے احکام سے رو گردانی کرئيں گے ان کی روزی تنگ ہو جاۓ گی اور وہ قيامت ميں بھی اندھے ہی اٹھيں گے۔ آپ سوچئیں کہ دنياء ميں روزی کا تنگ ہو جانا کس قدر خدا کا عذاب ہے کہ جس سے انسان کی عاقبت بھی خراب ہو جاتی ہے۔ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ جو قوم کفران نعمت کرتی ہے : فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ (112) النحل ' اللہ اسے بھوک اور خوف کا مزہ چکھاتا ہے۔ ' اور جس پر خدا کا عذاب آتا ہے اس کی نشانی يہ ہے کہ : لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ (9) الحج 'وہ اس دنياء ميں ذليل و خوار ہو جاتا ہے۔ ' اس کے ليۓ : عَذَاباً أَلِيماً فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ٍ (74) التوبۃ ' اس دنياء ميں دردناک عذاب۔ ' اور ايسی بہت سی آيات قرآن ميں ہيں، کوئی ديکھنے والا ہو!
ان آیات سے واضح ہے کہ اس دنياء ميں ذلت اور رسوائی کی زندگی، خدا کا عذاب ہے۔ غريبی اور محتاجی، مفلسی اور ناداری، روزی کی تنگی ان لوگوں کے حصے ميں آتی ہے جن پر خدا کا عذاب مسلط ہو جا تا ہے۔ اس کے برعکس، خدا کے محبوب بندؤں کو رزق کی فراوانی ہوتی ہے۔ انہيں ہر طرح کی خوشحالی ميسر آتی ہے، عزت کی روٹی ملتی ہے۔ حکومت اور سلطنت حاصل ہوتی ہے۔ وہ دنياء کی قوموں ميں بڑی باعزت زندگی بسر کرتے ہيں ۔اب آپ خود سوچ ليں کہ، مسلمان کہاں کھڑے ہيں؟ مسلمان کی ذلت کے اسباب کياں ہيں؟ کون سی چيز ہے جو مسلمان کو تباہ کر رہی ہے؟ کيا ان آيات کی روشنی ميں مسلمان خدا کے محبوب بندے ہيں يا پھر معتوب بندے؟ فيصلہ ميں آپ پر چھوڑتا ہوں!

Popular Posts